1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

تصویر کیوں اتاری، آٹھ سو یورو کا جرمانہ

اسپین میں ایک متنازعہ پبلک سکیورٹی لاء کے تحت ایک ایسی خاتون کو آٹھ سو یورو کا جرمانہ کر دیا گیا، جس نے معذوروں کے لیے مختص پارکنگ میں کھڑی ایک پولیس کار کی تصویر فیس بک پر شائع کردی تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ اس خاتون نے یہ تصویر ایک ایسے وقت میں کھیچنی تھی، جب اس نے معذوروں کے لیے مختص پارکنگ میں ایک پولیس کار کو پارک کیے ہوئے دیکھا۔ اس خاتون نے نہ صرف یہ تصویر فیس بک پر شائع کر دی بلکہ ساتھ ہی اس نے انتہائی سخت زبان استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ بغیر کسی وجہ کے پولیس نے یہ کار غلط پارکنگ میں کھڑی کی ہے۔

یہ واقعہ جنوب مشرقی شہر پیٹرل میں پیش آیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس خاتون نے اگلے دن ہی یہ تصویر اپنے فیس بک پیچ سے ہٹا دی تھی لیکن وہ جرمانے سے نہ بچ سکی۔ بتایا گیا ہے کہ اس خاتون کو ’سٹیزن سکیورٹی لاء‘ کے تحت جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ یکم جولائی سے نافذ العمل ہونے والے اس متنازعہ قانون کے تحت پولیس کے امیجز کو بغیر اجازت یا غیر قانونی طور پر استعمال کرنے پر تیس ہزار یورو تک کا جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ ایمنسٹٰی انٹرنیشنل اور متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے اس قانون کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پیٹرل کے ایک اعلیٰ پولیس اہلکار فرمین بونیت نے اے ایف پی کو بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے معذوروں کی پارکنگ ہنگامی طور پر استعمال کی تھی، کیونکہ اطلاع ملی تھی کہ وہاں قریب ہی ایک پارک میں کچھ نوجوان ایک تالاب کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بونیت کے مطابق پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر وہاں پہنچنا تھا، اس لیے جہاں جگہ ملی، وہاں گاڑی پارک کر دی گئی۔

فرمین بونیت نے تصدیق کی کہ اس خاتون کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیس بک پر اس طرح غلط انداز میں تصویر شائع کرنے سے پولیس کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر نیا قانون نافذ العمل نہ بھی ہوا ہوتا، تب بھی اس خاتون کی حرکت پر اس کے خلاف کارورائی ممکن تھی۔

اسپین میں حکمران قدامت پسند پاپولر پارٹی کی طرف سے متعارف کرائے گئے اس متنازعہ قانون کے تحت پارلیمان کی عمارت کے علاوہ دیگر اہم عمارتوں کے باہر بھی غیر قانونی طور پر مظاہرہ کرنے والوں کو بھاری جرمانوں کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ ناقدین کے بقول اس متنازعہ قانون کی وجہ سے بنیادی شہری آزادیوں پر قدغن لگائی جا سکتی ہے۔