1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تشدد کی شکار افغان خواتین کے لیے پناہ گاہیں: حکومت کنٹرول کی خواہشمند

افغانستان میں کابل حکومت کا پناہ کی متلاشی خواتین کے لیے قائم کردہ رہائش گاہیں اپنے انتظام میں لے لینے کا منصوبہ اس ملک میں خواتین اور نابالغ لڑکیوں کی سلامتی اور حفاظت کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

default

گھریلو تشدد کی شکار ایک چودہ سالہ افغان بچی

کابل میں کرزئی حکومت ایک ایسے مسودہء قانون کی تیاری پر غور کر رہی ہے، جسے خواتین کے حفاظتی مراکز سے متعلق قانون کا نام دیا گیا ہے اور جس کے تحت حکومت کو ملک میں موجود خواتین کی ایسی عارضی رہائش گاہوں کا انتظامی کنٹرول بھی حاصل ہو جائے گا، جو اب تک مختلف غیر سرکاری تنظیموں اور اقوام متحدہ کے زیر انتظام کام کر رہی ہیں۔

اس بارے میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اتوار کو نیو یارک میں جاری کردہ اپنے ایک تفصیلی بیان میں کہا کہ جنگ سے تباہ حال افغانستان میں اب تک ایسے جتنے بھی مراکز کام کر رہے ہیں، وہ اپنے ہاں آنے والی گھریلو تشدد کی شکار افغان خواتین اور نابالغ بچیوں کو ان کی سلامتی کی ضمانت دیتے ہوئے ان کی مدد کرتے ہیں۔

Afghanische Handarbeit

انسانی حقوق کے ادارے اس مجوزہ قانون کی مخالفت کر رہے ہیں

لیکن ہیومن رائٹس واچ کے مطابق کابل حکومت ایسے مراکز کا انتظام ایک نئے قانون کے تحت اپنے ہاتھ میں لے لینے کے جو ارادے بنا رہی ہے، وہ ایسی متاثرہ خواتین کی مدد کر سکنے کے عمل میں نئے مثبت امکانات کی بجائے اضافی رکاوٹوں اور مشکلات کا سبب بنیں گے۔

امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی اس تنظیم کے مطابق افغانستان میں ہونا تو یہ چاہیے کہ کابل حکومت اس شعبے میں غیر حکومتی اداروں کی طویل اور بہت مؤثر ثابت ہونے والی کوششوں میں ان کی مدد کرے، نہ کہ گھریلو تشدد کی شکار خواتین کے لیے قائم ایسے سلامتی مراکز براہ راست حکومت کے کنٹرول میں چلے جائیں۔

کابل حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے گھروں سے بھاگ کر ایسے سینٹرز میں پناہ لینے والی افغان عورتوں کے لیے زیادہ مالی وسائل اور بہتر انتظامی سہولیات مہیا کرنا چاہتی ہے، اسی لیے اس بارے میں نئی قانون سازی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

لیکن صدر کرزئی کی حکومت کے ان بیانات کے برعکس ہیومن رائٹس واچ کا دعویٰ ہے کہ افغانستان میں ویمن شیلٹر ہومز کا انتظام حکومت کو منتقل کرنے کی کوششوں کے پیچھے اصل ایجنڈا کچھ اور ہے، جو بہت واضح ہے۔

Afghanische Flüchtlinge in Belutschistan, Iran

افغانستان میں خواتین روزمرہ زندگی میں امتیازی سلوک کا شکار بنتی رہتی ہیں

HRW کے جاری کردہ بیان کے مطابق، ’افغان حکومت میں ایسے سخت گیر قدامت پسند عناصر کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، جو خواتین کے لیے ایسی عارضی پناہ گاہوں کے بنیادی نظریے ہی کے خلاف ہیں۔ اس لیے کہ یہ مراکز ان خواتین اور بچیوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، جنہیں ان کے شوہروں یا اہل خانہ کی طرف سے پرتشدد اور استحصالی رویوں کا سامنا ہوتا ہے۔ یہی مراکز چونکہ ایسی خواتین اور بچیوں کو خود مختاری، خود انحصاری اور اپنے فیصلے آپ کر سکنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں، اس لیے وہی قدامت پسند قوتیں جو ‌خواتین کے حقوق کی نفی کرتی ہیں، افغانستان میں اس مجوزہ لیکن بہت متنازعہ قانون سازی کی اصل محرک بھی ہیں۔‘

افغانستان میں وزراء کی کونسل نے اس بارے میں گزشتہ مہینے ملک میں خواتین کے لیے دارالامان کا کام دینے والے ایسے تمام مراکز کے منتظم اداروں کو ایک خط لکھا تھا، جس میں انہیں ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اگلے 45 دنوں میں ایسے سبھی مراکز کا کنٹرول خواتین سے متعلق امور کی افغان وزارت کو منتقل کر دیں۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM