1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تشدد ترک کر دیا، ایٹا کا اعلان

اسپین میں باسک علیحدگی پسند گروپ ایٹا نے اپنی چار دہائیوں سے چلی آ رہی پُر تشدد حکمتِ عملی کو ترک کرنے کا اعلان کیا ہے۔ میڈرڈ حکومت نے اسے جمہوریت کی فتح قرار دیا ہے۔

default

ایٹا کی جانب سے یہ اعلان جمعرات کو سامنے آیا، جس میں چالیس سال سے زائد عرصے سے جاری بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات بند کرنے کا عندیہ دیا گیا۔

اس کے ساتھ ہی یورپ میں جاری آخری بڑی مسلح علیحدگی پسند تحریک کا خاتمہ ہو گیا ہے، جسے انیس سو انسٹھ سے آٹھ سو انتیس ہلاکتوں کے لیے ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔

یہ ڈرامائی اعلان ایٹا کے تین نقاب پوش شدت پسندوں نے انٹرنیٹ پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں کیا، جس کے ساتھ باسک اخبار ’گارا‘ میں ایک تحریری بھی بیان جاری کیا گیا۔ اس میں کہا گیا: ’’ایٹا نے اپنی مسلح سرگرمیاں بند کرنے کا قطعی فیصلہ کیا ہے۔‘‘

بیان میں مزید کہا گیا: ’’ایٹا اسپین اور فرانس کی حکومتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ تنازعے کے حل کے لیے براہ راست مذاکرات کا عمل شروع کریں۔‘‘

ایٹا کا کہنا ہے کہ اس تاریخی اعلامیے سے اس گروپ نے اپنی واضح، ٹھوس اور فیصلہ کن سنجیدگی دکھائی ہے۔

اس کے ردِ عمل میں اسپین کے وزیر اعظم خوسے لوئس روڈرگز ساپاتیرو نے اسے جمہوریت کی فتح قرار دیا ہے۔ انہوں نے ایٹا کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کا تذکرہ بھی کیا۔

انہوں نے اپنے ایک نشریاتی خطاب میں کہا: ’’آئیں آج جمہوریت کی فتح، قانون کی جائز تسلی کو جی کر دیکھیں۔ یہ اطمینان تشدد کے ان واقعات سے داغدار ہے، جو کبھی رونما نہیں ہونے چاہییں تھے اور جو کبھی دوبارہ نہیں ہونے چاہییں۔‘‘

قبل ازیں ساپاتیرو ایٹا کے بیانات کو ردّ کرتے رہے ہیں۔ تاہم ایٹا کا یہ پہلا بیان ہے، جسے انہوں نے سراہا ہے۔

Zapatero löst Parlament auf Neuwahl im November 2011

اسپین کے وزیر اعظم خوسے لوئس روڈرگز ساپاتیرو

اسپین میں آئندہ ماہ انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور اپوزیشن ’پاپولر پارٹی‘ کے رہنما ماریانو راخوئے کو فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے، جنہوں نے ایٹا کے اس اعلان کو شکست سے تعبیر کیا ہے۔

ایٹا ساٹھ کے عشرے کے اواخر سے باسک لینڈ کی آزادی کے لیے کوشاں چلی آ رہی ہے۔ اس تنظیم نے فروری میں مستقل فائر بندی کا اعلان کیا تھا تاہم طاقت کے استعمال سے کنارہ کشی کا اعلان نہیں کیا تھا۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس