1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

تسلیم شدہ مہاجرین کی رہائش کے نئے ضوابط، جلد منظوری متوقع

جرمنی میں چانسلر آفس کے وزیر پیٹر آلٹمائر کے مطابق ملک میں جلد ہی وہ نیا قانون متعارف کرایا جا سکے گا، جس کے تحت مہاجرین کے طور پر تسلیم شدہ حیثیت کے حامل غیر ملکیوں کو مقررہ مقامات پر رہائش کا پابند بنا دیا جائے گا۔

جرمن ٹیلی ویژن اے آر ڈی کے ایک پروگرام میں آج پیر کے روز کی گئی اپنی ایک گفتگو میں آلٹمائر کا مزید کہنا تھا اس حوالے سے جرمن سیاسی جماعتوں میں جلد ہی اتفاق رائے طے پائے جانے کا امکان ہے۔ چانسلر آفس کے وزیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ تسلیم شدہ مہاجرین کو طے شدہ مقامات پر رہائش اختیار کرنے کی پابندی کے قانون سے اس بات کا بھی قبل از وقت تدارک ہو پائے گا کہ لاکھوں کی تعداد میں آنےو الے تارکین وطن جرمنی کے کن شہروں میں رہائش اختیار کر سکیں گے۔

جرمنی کے وائس چانسلر اور حکومتی اتحاد میں شامل سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ زیگمار گابریئل نے بھی گزشتہ رات اے آر ڈی ہی کے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ تسلیم شدہ مہاجرین کو پہلے سے مقرر کی گئی جگہوں پر رکھا جائے۔ گابریئل کا کہنا تھا، ’’رہائش کی پابندی کا قانون ضروری ہے، بصورت دیگر تسلیم شدہ حیثیت کے حامل تمام غیر ملکی مہاجرین جرمنی کے بڑے شہروں میں رہنا شروع کر دیں گے۔‘‘

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت، کرسچن ڈیموکریٹک یونین پہلے ہی ایسی تجویز پیش کر چکی ہے۔ گزشتہ ماہ ہونے والے پارٹی کے اجلاس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ بڑے شہروں میں اضافی مہاجرین کی آمد کو روک کر انہیں ملک بھر میں مساوی طور پر تقسیم کیا جائے۔

تاہم جرمنی کی گرین پارٹی نے اس مجوزہ ضابطے کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ گرین پارٹی سے تعلق رکھنے والے امور داخلہ کے ماہر فولکر بیک نے ایک مقامی روزنامے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ تسلیم شدہ مہاجرین کو مقررہ جگہوں میں پابند کرنے کا قانون، نہ صرف بین الاقوامی بلکہ یورپی یونین کے قوانین کے بھی خلاف ہے۔‘‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسے اقدامات تارکین وطن کے جرمن معاشرے میں انضمام میں بھی مددگار ثابت نہیں ہوں گے۔

جرمنی کی وفاقی حکومت مہاجرین کے طور پر تسلیم شدہ حیثیت کے حامل غیر ملکیوں کی رہائش سے متعلق قوانین کا از سرِ نو جائزہ لے رہی ہے۔ اس سے قبل صرف ابتدائی رجسٹریشن کے بعد جرمنی آنے والے تارکین وطن پر مقررشدہ مقام پر رہائش اختیار کرنے کی پابندی تھی۔ تاہم نئے قوانین کے بعد پناہ کی درخواست منظور ہونے کے بعد بھی مہاجرین صرف جرمن حکام کی جانب سے مقرر کردہ جگہوں پر ہی رہنے کے پابند ہوں گے۔

DW.COM