1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

تریبیکا فلمی میلے میں اعزازت کا اعلان

تریبیکا فلم فیسٹیول میں سویڈین کی فلم ’شی مونکیز‘ اور اسرائیلی ہدایت کار الما ہاریل کی دستاویزی فلم ’بمبے بیچ’ کو اعلیٰ اعزازت سے نوازا گیا ہے۔ ان ایوارڈز کا اعلان جمعرات کو کیا گیا۔

default

ووپی گولڈ برگ جیوری کے ارکان میں شامل تھیں

اس فلمی میلے میں لیزا آشان کی فلم ’شی مونکیز’ کو بہترین نیریٹو قرار دیا گیا۔ اس میں دو جواں سالہ لڑکیوں کی کہانی بیان کی گئی ہے، جن کی دوستی دشمنی میں بدل جاتی ہے۔ جیوری نے اس فلم کو موضوع کے اعتبار سے منفرد کوشش قرار دیتے ہوئے سراہا اور کہا کہ اس فلم میں سیکس، بلوغت، طاقت اور جوش کو موضوع بنایا گیا ہے۔

الما ہاریل کی فلم ’بمبے بیچ‘ بہترین دستاویزی فلم قرار پائی ہے۔ اس میں کیلی فورنیا کے ایک سابق تفریحی علاقے میں رہنے والے لوگوں کی زندگی پر نظر ڈالی گئی ہے۔ مذکورہ کیٹیگری میں ہاریل کی فلم کو جیوری نے متفقہ طور پر منتخب کیا۔ انہوں نے اسے خوبصورتی، شاعرانہ انداز، ہمگدازی اور اختراع کے لیے سراہا۔

رمضان شامی بیزیمانا کو نسل کشی کے موضوع پر بننے والی فلم ’گرے میٹر‘ کے لیے بہترین اداکار ٹھہرایا گیا۔ یہ فلم روانڈا اور آسٹریلیا کی مشترکہ کاوش ہے۔

کارسیا فان ہوتین ’بلیک بٹرفلائیز‘ کے لیے بہترین اداکارہ قرار پائیں۔ اس فلم کی کہانی جنوبی افریقہ کے نسلی عصبیت کے دور کے گرد گھومتی ہے۔

تریبیکا فلم فیسٹیول کا یہ دسواں سال ہے۔ اس کا آغاز امریکہ میں گیارہ ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد کیا گیا تھا جبکہ اس کا مقصد نیویارک میں زندگی کی اُمنگ کی بحالی تھا۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اس فلمی میلے سے دس برسوں کے دوران تقریباﹰ چھ سو ملین ڈالر کی رقم اکٹھی کی جا چکی ہے۔

رواں برس اس میلے کے لیے پانچ ہزار سے زائد فلمیں سامنے آئیں، جن میں سے ترانوے کو قابل ذکر قرار دیا گیا۔ ان میں اکتالیس دستاویزی اور باون نیریٹو فلمیں شامل تھیں۔

اس مرتبہ جیوری میں ہدایت کار ڈیوڈ او رسل اور ایٹم ایگوان، اداکار پاؤل ڈانو، ووپی گولڈ برگ اور مائیکل سیرا شامل تھے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس