1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ترک یونانی سرحد پر یورپی بارڈر گارڈز کی کامیابی

یورپی یونین کو اس امر پر خاصی تشویش ہے کہ یونین کی بیرونی سرحدوں کا کام دینے والے ملکوں میں یونین سے باہر کے علاقوں سے غیرقانونی تارکین وطن کی آمد کو ابھی تک پوری طرح نہیں روکا جا سکا۔

default

ایک غیر قانونی مہاجرکے زخمی ہاتھ

اس سلسلے میں اسپین، پرتگال، اٹلی اور یونان ایسے ممالک ہیں، جہاں غیر قانونی، غیر یورپی تارکین وطن کی آمد ابھی تک اِن ملکوں کی حکومتوں اور برسلز میں یورپی کمیشن کے لئے دردِ سر بنی ہوئی ہے۔ اسی دوران کئی یورپی ملکوں کی طرف سے مشترکہ طور پر بھیجے گئے سرحدی محافظین یونان میں غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کو روکنے میں کسی حد تک کامیاب ہو رہے ہیں۔

ترکی سے یونان میں غیر قانونی تارکین وطن کی بڑی تعداد میں آمد کو روکنے کے لئے متعدد یورپی ریاستوں سے لئے گئے ارکان پر مشتمل سرحدی محافظین کے دستے کو ان دونوں ملکوں کے درمیان ایک ایسے دریا کے

Dossier Teil 1 Griechenland Frontex EU Hilfe Grenzen Flüchtlinge

ایک یونانی جزیرے پر مقید کم عمر، غیر قانونی تارکین وطن

کنارے متعین کیا گیا تھا، جو ترکی اور یونان کے درمیان سرحد کا کام بھی دیتا ہے۔ یونانی زبان میں اس دریا کو Evros جبکہ ترک زبان میں اسے Meric کہا جاتا ہے۔ یونانی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق یہ یورپی سرحدی حفاظتی دستہ کُل سو ارکان پر مشتمل ہے، جس کی ترک یونانی سرحد پر تعیناتی یورپی یونین کے سرحدی حفاظتی ادارے Frontex کے تحت عمل میں آئی تھی۔

نومبر کے شروع میں ان محافظین کی وہاں تعیناتی کے پہلے ہی روز ایک سو پندرہ ایسے غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کر لیا گیا، جو ترکی سے یونان میں داخل ہونا چاہتے تھے۔ فرنٹیکس نے اس تُرک یونانی سرحد پر یہ محافظ متعین کرنے کا فیصلہ اس لئے کیا تھا کہ یورپی کمیشن کے مطابق یورپی یونین میں کسی بھی جگہ پہنچنے والے غیر قانونی تارکین وطن کی سالانہ تعداد کا 80 فیصد اِسی راستے سے یورپی یونین میں داخل ہوتا ہے۔

یونانی حکومت کو اس امر کا بخوبی اندازہ تھا کہ وہ ترکی کے ساتھ اپنی سرحد پار کر کے آنے والے غیر قانونی مہاجرین کی بہت بڑی تعداد کو روکنے میں اکیلے ہی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس لئے قریب دو ہفتے قبل ایتھنز

Bootsflüchtlinge vor Teneriffa

یورپ کی جانب بڑھتی غیر قانونی مہاجرین کی ایک کشتی

میں ملکی حکومت نے برسلز میں یورپی یونین سے یہ درخواست کی تھی کہ یونین کی باقی ریاستوں کو بھی ایتھنز کی مدد کرنی چاہئے۔

ہر سال ترکی سے یونان میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے والے تارکین وطن کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اسی سال صرف جنوری سے اب تک ترکی سے 36 ہزار ایسے مہاجرین یونان پہنچ چکے ہیں۔ یہ تعداد ایسے تارکین وطن کی ہے، جنہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ لیکن ایسے غیرقانونی تارکین وطن کی تعداد کتنی ہے، جو ہر سال حکام کی نظروں سے بچتے ہوئے ترکی سے یونان میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، یہ اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔

یونان متعینہ یورپی یونین کے سرحدی محافظین کے فرائض میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ ترکی کے ساتھ یونان کی زمینی سرحد کی حفاظت کریں اور وہاں پکڑے جانے والے پناہ کے متلاشی مہاجرین کو ان کے لئے قائم کردہ عارضی رہائشی کیمپوں تک پہنچائیں۔ یورپی یونین کے سرحدی محافظین ترکی اور یونان کے درمیان صرف زمینی سرحدوں کی نگرانی کا کام ہی نہیں کرتے بلکہ وہ گزشتہ تقریباﹰ ایک سال سے انہی دونوں ملکوں کے درمیان بحیرہء ایجیئن کے مشرقی علاقے کے تنگ سمندری راستوں کی نگرانی بھی کرتے ہیں، جہاں انہیں اب تک کافی زیادہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس نگرانی کی وجہ سے بحیرہء ایجیئن کے علاقے میں غیر قانونی مہاجرین کی ترکی سے یونان میں آمد کی شرح میں اب تک کافی کمی دیکھنے میں آ چکی ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس