1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترک کی مسلح افواج میں تیس ہزار نئی بھرتیاں ہوں گی

ترک وزارت دفاع کے جانب سے بتایا گیا ہے کہ ترک مسلح افواج میں اگلے چار برسوں کے دوران تیس ہزار نئی بھرتیاں کی جائیں گی۔ ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترک افواج سے بڑی تعداد میں فوجیوں کو برطرف کیا گیا ہے۔

رواں برس جولائی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترکی میں مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افسروں اور فوجیوں کو ملازمتوں سے برطرف کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ملکی فوج تعداد کی کمی شکار ہے۔ بدھ 16 نومبر کو ترک وزرات دفاع کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اگے چار برسوں کے دوران ترک حکومت ملکی مسلح افواج میں تیس ہزار نئی بھرتیاں کرے گی۔

یہ بات اہم ہے کہ جولائی کے وسط میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد اب تک ایک لاکھ دس ہزار سے زائد سرکاری ملازمین کو برطرف کیا گیا ہے جن کا تعلق فوج، عدلیہ اور دیگر سرکاری محکموں سے تھا۔  ملازمتوں سے برطرف کیے گئے ان افراد میں سے قریب بیس ہزار کا تعلق ملکی مسلح افواج سے ہے، جن میں سے سولہ ہزار زیر تربیت فوجی تھے۔

Türkei Dscharabulus- Türkische Panzer an der türkisch syrischen Grenze (Getty Images/AFP/B. Kilic)

ترک فوج افرادی قوت کی کمی کا شکار ہے

انسانی حقوق کی تنظیموں اور ترکی کے مغربی اتحادی ممالک کی جانب سے اس حکومتی کریک ڈاؤن پر شدید تحفظات ظاہر کیے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ صدر رجب طیب ایردوآن آمرانہ طرز حکومت کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور ناکام فوجی بغاوت کو نکتہ بنا کر اپنے سیاسی حریفوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔

ترک وزارت دفاع سے وابستہ ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اگلے چار برس کے دوران ملکی بری اور بحری فوج میں تیس ہزار ایک سو انسٹھ نئی بھرتیاں کی جائیں گی۔

ترک فوج کے ایک ترجمان نے بھی ان خبروں کی تصدیق کی ہے، تاہم اس حوالے سے درست تعداد نہیں بتائی گئی ہے۔ فوجی بیان کے مطابق اس وقت فوجیوں کی مجموعی تعداد تین لاکھ ساٹھ ہزار کے قریب ہے۔

انقرہ حکومت ناکام فوجی بغاوت کا الزام جلاوطن مذہبی مبلغ فتح اللہ گولن پر عائد کرتی ہے، جب کہ گولن ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ترک حکومت کا کہنا ہے کہ جولائی کی 15 تاریخ کو ہونے والی بغاوت میں ان فوجی افسروں نے حصہ لیا جو گولن تحریک کا حصہ تھے۔

امریکا میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے فتح اللہ گولن نے فوجی بغاوت کی مذمت کی ہے اور اس میں ملوث ہونے کے تمام تر الزامات کو رد کیا ہے۔