1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترک کاروباری حلقوں میں خوشی کی لہر

ترکی اور روس کے صدور کی سینٹ پیٹرز برگ میں ملاقات اور دوطرفہ تعلقات کی بحالی کے اعلان پر ترکی کے کاروباری حلقوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔

گزشتہ نومبر میں ترکی کی جانب سے روسی فضائیہ کا طیارہ مار گرائے جانے کے بعد ترکی اور روس کے تعلقات میں جو تعطل پیدا ہوا اس کا سب سے زیادہ نقصان کاروباری طبقے کو ہی اٹھانا پڑ رہا تھا۔

ترکی کی معیشت بڑی حد تک روس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ روس ترکی کے پھلوں، سبزیوں اور گوشت کی ایک بڑی منڈی ہے جبکہ اس کے علاوہ ترکی کی توانائی کی ضروریات کا بڑا انحصار بھی روس پر ہی ہے۔ روس ترکی کی قدرتی گیس کی ضروریات کا پچپن فیصد پورا کر رہا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے روس نے ترکی کے ساتھ بحیرہ اسود میں ترکش اسٹریم گیس پائپ لائن منصوبے اور اکویو جوہری پلانٹ پر کام روک دیا تھا۔ اس کے علاوہ ترکی کی متعدد تعمیراتی کمپنیاں روس میں اربوں ڈالرز کے مختلف منصوبوں پر جو کام کر رہی تھیں ان پر بھی پابندیاں لگا دی گئی تھیں۔

روس کے لیے ترکی کے ساتھ اقتصادی تعلقات کی اہمیت ترکی کا روس کی توانائی کا ایک بڑا خریدار ہونے کے ساتھ ساتھ روسی توانائی کی دیگر ممالک کو ترسیل کے لیے ترکی کی طرف سے بحری راستہ مہیا کرنا بھی قرار دیا جاتا ہے۔

Türkei Supermarkt Tourismus

ترکی کی معیشت بڑی حد تک روس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق روس کے ساتھ تعلقات میں تعطل کے بعد رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں ترکی کی برآمدات میں سات سو سینتیس ملین ڈالرز کی کمی آئی، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں ساٹھ فیصد کی کمی تھی۔

اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعلقات کا ایک اور اہم پہلو سیاحت کا شعبہ بھی ہے۔ سال دو ہزار چودہ میں تینتیس لاکھ روسی سیاحوں نے ترکی کا رخ کیا تھا، یہ تعداد ترکی آنے والے دوسرے کسی بھی ملک کے سیاحوں کے مقابلے میں زیادہ تھی۔

غیر ملکی سیاحوں میں سب سے زیادہ مقبول ترکی کے شہر استنبول میں سیاحت سے وابستہ کاروبار اس کمی کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ہوٹل مالکان، سیاحتی کمپنیوں اور ترک مصنوعات فروخت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کی بحالی سے ان کے تباہ حال کاروبار بحال ہونے کی امید پید ہوئی ہے۔

ایسے ہی افراد میں سے ایک اُرہان آوجُو استنبول میں سیاحوں کے لیے ایک ٹریکنگ کمپنی چلاتے ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’روسی سیاحوں کی آمد تقریبا ختم ہو کر رہ گئی تھی، جس کی وجہ سے سیاحت کی پوری انڈسٹری تباہ ہو رہی تھی۔ اب ہمارا زیادہ انحصار دیگر ممالک اور مقامی سیاحوں پر ہے لیکن وہ کسی بھی طرح سے روسی سیاحوں کی تعداد کے برابر نہیں ہیں اور اس وجہ سے بہت سے لوگوں کو اپنے کاروبار بند بھی کرنے پڑے جبکہ کچھ لوگ ملازمتوں سے بھی فارغ ہوگئے۔‘‘

اُرہان کو امید ہے کہ اب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی سے ان کا کام پہلے کی طرح اچھا ہو جائے گا۔ روسی حکومت نے ترکی کی طرف سے طیارہ مار گرائے جانے کے بعد ترکی سے پھلوں اور سبزیوں کی درآمد کے علاوہ روسی سیاحوں کے ترکی جانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

Türkei - Trekkingfirma Inhaber Orhan Avju

استنبول میں سیاحوں کے لیے ایک ٹریکنگ کمپنی چلانے والے اُرہان آوجُو کے بقول روسی سیاحوں کی آمد تقریبا ختم ہو کر رہ گئی تھی

دونوں ملکوں کے درمیان باقی معاملات پر ہم آہنگی کے باوجود شام کے مسئلے پر اختلافات ابھی بھی موجود ہیں۔ روس شام کے حکمران بشار الاسد کی حمایت میں کھل کر کھڑا ہے اور اس کی فضائیہ روزانہ کی بنیاد پر اسد مخالف باغیوں کے ٹھکانوں پر بمبار کر رہی ہیں۔

دوسری طرف ترکی نہ صرف اسد مخالف باغیوں کا حامی ہے بلکہ اسے روس سے کرد باغیوں کو اسلحہ مہیا کرنے بھی شکایت ہے۔ ترکی نے کرد باغیوں کی مسلح تنظیم پیشمرگا کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے انہی اختلافات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ترک صدر سے منگل کو روسی شہر سینٹ پیٹرز برگ میں ملاقات کے بعد کہا تھا کہ شام پر ترک پالیسیوں کے حوالے سے اختلافات کو حل کرنا ممکن ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شام کی صورتحال دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں فی الحال مکمل اعتماد قائم نہیں ہونے دی گی۔

DW.COM