1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ترک پولیس کی کارروائی ، چھ پاکستانی نوجوان بازیاب

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق ترکی میں انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں اِغوا ہونے والے چھ پاکستان نوجوانوں کو ترک پولیس نے بازیاب کر لیا  ہے جبکہ ترکی میں پاکستانی سفارت خانہ ترک حکام سے مسلسل رابطے میں ہے۔

Pakistan der Sprecher des Aussenministeriums Nafees Zakaria (Getty Images/AFP/A. Qureshi)

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستانی قونصل خانہ ترک پولیس کے ساتھ رابطے میں ہے

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی آج بروز بدھ مورخہ 4 جنوری کو جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق ترک پولیس نے استنبول میں پاکستانی قونصل جنرل کو بتایا ہے کہ مبینہ اغوا کاروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے آج چھ پاکستانی نوجوانوں کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

 پریس ریلیز کے مطابق بازیاب ہونے والوں کے نام فضل امین، عادل احمد، محمد ذیشان، عابد، عثمان علی اور اشبر احمد ہیں۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ترک حکام معاملے سے نمٹنے کے لیے قانونی کارروائی مکمل کر رہے ہیں جبکہ پاکستانی قونصل خانہ ترک پولیس کے ساتھ رابطے میں ہے اور اِغوا کاروں سے رہائی پانے والے پاکستانی نوجوانوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔

 یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ایک بیان میں ترکی میں نوجوان پاکستانیوں کے اغوا سے متعلق خبر پر کہا گیا تھا کہ وہ میڈیا میں آنے والی خبروں سے آگاہ ہے اور  انقرہ اور استنبول  میں پاکستانی سفارتی مشنز اس حوالے سے ترک حکام کو آگاہ کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔

علاوہ ازیں جرمنی کے شہر ڈریسڈین میں مقیم پاکستانی پناہ گزین شہزاد حسین نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئےدعوی کیا تھا کہ اِغوا شدہ پاکستانی نوجوانوں میں سے ایک ذیشان عبدالخالد کے بھائی نعیم عبد الخالد اُن کے دوست ہیں اور نعیم کے مطابق اُنہیں روزانہ اِن نوجوانوں پر تشدد کی ویڈیوز موصول ہو رہی تھیں جن میں اِن پاکستانی مہاجرین کی رہائی کے لیے 20 ہزار ڈالر تاوان کی رقم کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

شہزاد حسین کے مطابق ذیشان اور اُس کے دوستوں سمیت کُل چار افراد کو مبینہ طور پر کرد باشندوں نے اغوا کیا تھا، جن میں سے ایک مغوی کو، جس کا تعلق پاکستانی شہر پشاور سے بتایا گیا ہے، مبینہ طور پر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

حسین کے مطابق اُن کی ذیشان کے بھائی نعیم عبدالخالد سے ترکی میں دوستی ہوئی تھی اور جب اُن کے بھائی اغوا ہوئے تو نعیم عبدالخالد نے شہزاد حسین سے مدد کے ليے رابطہ کیا کیونکہ شہزاد حسین کی ترکی میں جان پہچان تھی۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ نے پاکستانی شہریوں کی بازیابی کے لیے بروقت کارروائی کرنے پر ترک حکومت اور متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا ہے۔     

 

DW.COM