1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ترک وطن کا قانون جرمنی کی ضرورت ہے

ملکی خوشحالی برقرار رکھنے کے لیے غیر ملکیوں کی آمد ضروری ہے تاہم اس کے اہداف کا تعین خوب سوچ سمجھ کر کیا جانا چاہیے۔ ڈوئچے ویلے کے چیف ایڈیٹر الیگزانڈر کوڈا شیف کا تبصرہ۔

جرمنی میں شرح پیدائش بہت کم ہے۔ اگر اس ملک کی خوشحالی کو برقرار رکھنا ہے تو غیر ملکی تارکین وطن کو یہاں بسانا ہو گا تاہم اس کے لیے باقاعدہ اہداف مقرر ہونے چاہییں اور اس عمل پر سخت کنٹرول ہونا چاہیے۔اس بارے میں ڈوئچے ویلے کے چیف ایڈیٹر الیگزانڈر کوڈا شیف تحریر کرتے ہیں:

آخر کار جرمنی میں انضمام کا ایک قانون بن ہی گیا ہے۔ جرمنی تارکین وطن کے حقوق اور فرائض کو باضابطہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جرمنی کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ اب تارکین وطن کے انضمام کے لیے اُسے اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس تناظر میں حالیہ دنوں میں تارکین وطن سے متعلق قانون پر ہونے والا فیصلہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس بارے میں جرمن چانسلر اور برلن حکومت کا موقف بالکل دُرست ہے اور آخر کار جرمنی میں اب اس بارے میں سنجیدگی سے سوچا جا رہا ہے کہ تارکین وطن کو جرمن معاشرے میں کیا کچھ کر کے دکھانا ہو گا اور ان سے کیا توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں۔

سیاسی پناہ کے حقوق میں تبدیلی نہ کی جائے

لیکن: انضمام سے متعلق قانون تارکین وطن کے واجب قانون کی جگہ نہیں لے سکتا۔ جرمنی گذشتہ صدیوں کے دوران وہ ملک تھا، جہاں کے باشندے ترک وطن کر کے دوسرے ممالک کی طرف نقل مکانی کیا کرتے تھے تاہم اب ایک عرصے سے جرمنی خود تارکین وطن کی ایک پسندیدہ منزل کی حیثیت کا حامل ملک بن چُکا ہے لیکن بہت سے لوگ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرنا چاہتے اور اسے دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جرمنی کو تارکین وطن کی ضرورت ہے کیونکہ یہاں بہت کم بچے پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں مستقبل میں آبادی میں شدید کمی کے مسئلے کا سامنا ہو گا۔ اقتصادی، صنعتی، تحقیقی، درس و تدریس، پیشہ ورانہ اور انجینئرنگ کے شعبوں میں ماہرین کی شدید قلت پیدا ہو گی۔ اگر جرمنی کو اپنی خوشحالی کو برقرار رکھنا ہے تو اسے غیر ملکیوں کو یہاں جگہ دینا ہو گی تاہم بہت سوچے سمجھے اہداف کے تحت اور نہایت چھان بین کے ساتھ۔

Kudascheff Alexander Kommentarbild App

ڈوئچے ویلے کے چیف ایڈیٹر الیگزانڈر کوڈا شیف

تارکین وطن کے قانون کے چیدہ چیدہ نکات

تارکین وطن کے قانون میں تین باتوں کا خیال رکھنا ہو گا۔ ایک یہ کہ ’مطلوبہ تارکین وطن‘ یا جرمنی کو جن تارکین وطن کی ضرورت ہے، جبر و تشدد کے شکار افراد اور تعاقب کے شکار مخالفین، منحرفین، مصنفین، انسانی حقوق کے لیے سرگرم عناصر اور اُن کے لواحقین کو دی جانے والی سیاسی پناہ کے بارے میں۔ دوسرے ایک خاص مدت کے لیے دیے جانے والے مہاجرین حقوق۔ کسی جنگ یا اس جیسی آفت کے نتیجے میں مہاجرت پر مجبور انسانوں کو کتنی مدت تک کے لیے بطور مہاجرین جرمنی میں حقوق دیے جائیں، اس بارے میں واضح ضوابط طے ہونے چاہییں۔ تیسری اہم بات یہ کہ سیاسی پناہ کے حقوق میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔ تعاقب کے شکار افراد کے لیے سیاسی پناہ کا حق موجود ہے۔ تاہم اس حق کا ناجائز فائدہ نہیں اُٹھایا جانا چاہیے۔ ہر سال سیاسی پناہ کی چند ہزار درخواستیں ہی منظور ہوتی ہیں جبکہ سیاسی پناہ کے متلاشی لاکھوں افراد جرمنی پہنچتے ہیں اور پناہ کی درخواستیں جمع کراتے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جو کوئی بھی اس حق کا ناجائز فائدہ اُٹھانے کی کوشش کر رہا ہے وہ اس کے حقدار افراد کی کوششوں کو بھی ناکام بنانے کا سبب بنے گا اور اس طرح یہ کسی کے لیے بھی کارآمد ثابت نہیں ہو گا۔

اُمید: بڑا اتحاد

جرمنی کی خواہش اور ضرورت کے مطابق یہاں آنے والے تارکین وطن کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ جرمنی کو ڈاکٹروں، کمپیوٹر پرگرامرز، ماہرین طبیعیات، جرمن اسٹڈیز کے ماہرین، ماہرین علم الانسان، اساتذہ، مکینیکل انجینئرز اور کیمیا دانوں کی ضرورت ہے اور ہم ساری دنیا میں انہیں ڈھونڈ رہے ہیں، نیوزی لینڈ سے لے کر اسپین تک کیونکہ ہمیں ان کی ضرورت ہے اور وہ بھی جرمنی آنا چاہتے ہیں، ہم انہیں روزگار کے ساتھ ساتھ قیام کا اجازت نامہ بھی دیتے ہیں۔ ایسے تارکین وطن اگر چاہیں تو جلد جرمن شہری بھی بن سکتے ہیں۔ اس طرح جرمن اسٹڈیز کا کوئی بھارتی ماہر مشرقی جرمن شہر روسٹوک کی یونیورسٹی میں، ایک افریقی پادری بالائی باویریا میں اور بولیویا سے تعلق رکھنے والا کوئی انجینئر مرسیڈیز کمپنی میں آسانی سے اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔

تاہم مہاجرین کا کیا بنے گا؟ یہ کسی کو نہیں پتہ کہ خانہ جنگی کب تک جاری رہے گی، جس کے سبب وہ پناہ کی تلاش میں جرمنی پہنچے ہیں۔ یہ بات شامی مہاجرین کے تناظر میں کہی جا رہی ہے۔ انہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت جرمنی کا اقامہ یا یہاں رہنے کا اجازت نامہ دیا جا رہا ہے۔ ان تمام مہاجرین پر انضمام کا نیا قانون لاگو ہوتا ہے، جس کے تحت انہیں جرمن زبان پر عبور حاصل کرنے اور یہاں روزگار حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔

DW.COM