1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترک وزیر اعظم کی امریکی پالیسیوں پر تنقید

ترکی کو امریکہ کا اتحادی ملک تصور کیا جاتا ہے۔ ترک وزیر اعظم نے مشرق وسطیٰ بابت امریکی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

default

ترک وزیر اعظم اور امریکی صدر: فائل فوٹو

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسیوں کو ’دوہرے معیار کی حامل‘ قرار دیتے ہوئے ان پر شدید تنقید کی ہے تاہم یہ بھی کہا ہے کہ امریکہ آئندہ بھی ترکی کا دوست ملک رہے گا۔ انہوں نے یہ بیان منگل کو انقرہ میں ملکی پارلیمان سے اپنے ایک خطاب کے دوران دیا۔

ایردوآن نے کہا: ’’مغرب یا مشرق سے جدا ہونا نہ تو ترکی کے لئے ممکن ہے اور نہ ہی یہ مناسب ہو گا۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے، جو اپنے تاریخی پس منظر میں ہی سمجھی جا سکتی ہے۔‘‘

ترک وزیر اعظم کے بقول: ’’جو کوئی ترکی کی اہمیت بخوبی سمجھ سکتا ہے، وہی اس کا دوست ملک ہے، اور یہ ہے امریکہ۔‘‘

رجب طیب ایردوآن نے اعتراف کیا کہ ان کی حکومت بسا اوقات واشنگٹن حکومت

Recep Tayyip Erdogan bei Barack Obama Washington Flash-Galerie

امریکی صدر کے دفتر میں اوباما اور ایردوآن: فائل فوٹو

کے ساتھ اختلافات کا شکار ہوئی، جس کی وجہ سے اس کی علاقائی ترجیحات بھی متاثر ہوئیں۔

ایردوآن نے امریکی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے واشنگٹن کی خارجہ سیاست کے حوالے سے یہ موقف اختیار کیا: ’’آپ جمہوریت کی بات کرتے ہیں، لیکن آپ وہ تمام کام کرتے ہیں، جو جمہوریت کی روح کے منافی ہیں۔ جب ضرورت پڑتی ہے تو آپ مطلق العنان بن جاتے ہیں اور جب آپ مناسب سمجھیں، آپ جمہوریت پسند بن جاتے ہیں۔‘‘

منگل کو ترک پارلیمان میں کی گئی اپنی اس جذباتی تقریر کے باوجود وزیراعظم ایردوآن نے امریکہ کے ساتھ تعاون کے عہد کا اعادہ بھی کیا۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ ترکی کے روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کئی ’’دہائیوں پر محیط ہمارے ان دوستانہ تعلقات کو دنیا بخوبی دیکھ سکتی ہے۔ ترکی اور امریکہ مشترکہ مقاصد رکھتے ہیں۔‘‘

رجب طیب ایردوآن نے ترک ارکان پارلیمان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں ’’باراک اوباما کی قیادت میں کام کرنے والی ملکی انتظامیہ کو بخوبی یہ احساس ہونا چاہئے کہ ترکی کی خارجہ پالیسی اعلیٰ معیار کی ہے۔ ترکی امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات خراب نہیں کرے گا بلکہ مزید بہتر انداز میں کام کرے گا۔‘‘

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM