1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

ترک نژاد اوزدیمیر جرمنی کی گرینز پارٹی کے سربراہ

جرمنی میں ماحول پسندوں کی گرینز پارٹی کےشہر ایغفورٹ میں ہونے والےوفاقی کنوینشن میں 42 سالہ ترک نژاد جرمن سیاستدان چیم اوزدیمیر کو اس جماعت کا نیا سربراہ چن لیا گیا۔

default

یہ پہلا موقع ہے جب کسی تارکِ وطن پس منظر رکھنے والے کو جرمنی کی اہم سیاسی جماعت کا سربراہ مقرّر کیا گیا ہے

جرمنی میں یہ پہلا موقع ہے کہ سماجی سطح پر مرکزی سیاسی دھارے میں شامل کسی پارٹی کی سربراہی ایک ایسے سیاستدان کو سونپی گئی ہے جو تارکین وطن کے پس منظر کا حامل ہے۔

بیالیس سالہ Özdemir نوے کے عشرے میں پہلی مرتبہ جرمنی کی وفاقی پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے تھے اور بعد میں انہوں نے جرمنی سے یورپی پارلیمان کے رکن کے طور پر بھی اپنے فرائض انجام دیئے۔

Erfurt میں جمعہ سے شروع ہوکر اتوار کے روز تک جاری رہنے والے گرینز پارٹی کے وفاقی کنوینشن میں پارٹی مندوبین کو اپنی جماعت کے نئے سربراہ کا انتخاب کرنے کے علاوہ چند دیگر مرکزی عہدوں پر بھی نئے رہنماؤں کا چناؤ کرنا تھا۔ کنویشن کی یہ جملہ کارروائی معمول کے مطابق ہوئی مگرسب سے اہم اور تاریخ ساز قرار دیا جانے والا فیصلہ بیالس سالہ Özdemir کا انتخاب تھا جو پارٹی کی قیادت کے لئے واحد امیدوار تھے اور جن کے اس عہدے پر انتخاب کی کنوینشن کے قریب 80 فیصد مندوبین نے حمایت کی۔

اس ترک نژاد جرمن سیاستدان کے ہمراہ پارٹی کی دوہری قیادت کے طور پر جس دوسری شخصیت کو گرینز پارٹی کا سربراہ چنا گیا وہ Claudia Roth ہیں جو پہلے بھی پارٹی کی شریک سربراہ کے فرائض انجام دے رہی تھیں۔

اپنے انتخاب کے بعد Cem Özdemir نے پارٹی کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پارٹی ساتھیوں کے ہمراہ مل کر ایک ایسے معاشرے کے قیام کے لئے جدوجہد کرنا چاہتے ہیں جس میں ہر کسی کو اس کے نسلی یا معاشرتی پس منظر سے قطع نظر ساتھ لے کر چلا جاسکے۔

Cem Özdemir کے جرمن گرینز پارٹی کے شریک سربراہ کے طور پر انتخاب پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈوئچے ویلے کے تبصرہ نگار باہا گنگور لکھتے ہیں کہ Özdemir ایک ایسے سیاستدان ہیں جو جرمن اور یورپی پارلیمانی اداروں میں فرائض انجام دے چکے ہیں۔ انہیں گذشتہ برسوں میں کافی زیادہ سیاسی تجربہ حاصل ہو چکا ہے اور کسی جرمن سیاسی جماعت کے تارکین وطن کے گھرانے سے تعلق رکھنے والے وہ پہلے سربراہ تو ہیں ہی، لیکن آئندہ ہفتوں اور مہینوں میں انہیں Claudia Roth کے ساتھ مل کر ایسے اہم فرائض انجام دینا ہیں جو بہت آسان بھی نہیں ہیں اور جن کی فہرست بھی بڑی طویل ہے۔