ترک معیشت میں گولن نیٹ ورک کا کردار کیا ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 05.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترک معیشت میں گولن نیٹ ورک کا کردار کیا ہے؟

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے فتح اللہ گولن سے منسلک یا ان کی تنظیم کو فنڈ فراہم کرنے والے تمام کاروباری اداروں کو قابو میں لانے کا اعلان کر دیا ہے لیکن ان حکومتی کارروائیوں کا ترک معیشت پر کیا اثر پڑے گا؟

ترکی میں ناکام بغاوت کے بعد صدر رجب طیب ایردوآن نے ہر اس ادارے کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے، جس کا تعلق امریکا میں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرنے والے مذہبی رہنما فتح اللہ گولن سے ہے۔ اس تنظیم سے منسلک اسکولوں کو تالے لگائے جا رہے ہیں جبکہ فلاحی اداروں کو بند کیا جا رہا ہے۔ اب ترک حکومت نے ان تمام کاروباری اداروں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر رکھا ہے، جن کا کسی نہ کسی طریقے سے اس مذہبی رہنما کے ساتھ تعلق بنتا ہے۔

ترک صدر کا براہ راست تقریر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کاروبار وہ میدان ہے، جہاں فتح اللہ گولن سب سے زیادہ مضبوط ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ لوگ جو ان ’’نشانہ بازوں کو مالی معاونت‘‘ فراہم کر رہے ہیں، ان کے ساتھ بھی بغاوت کا ساتھ دینے والوں جیسا سلوک کیا جائے گا۔

ترک صدر کا الزام عائد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ گولن نے گزشتہ کچھ عرصے میں ترکی میں اور بیرون ملک اسکولوں، فلاحی اداروں اور تجارتی مراکز کا وسیع نیٹ ورک قائم کر لیا ہے تاکہ یہ لوگ ریاستی اداروں میں سرایت کر سکیں اور حکومت کے ’’متوازی ڈھانچہ‘‘ قائم کر سکیں۔

جمعرات کو استنبول کی ایک عدالت نے امریکا میں مقیم فتح اللہ گولن کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے۔ دوسری جانب 75 سالہ اس رہنما نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے وارنٹ گرفتاری کو مسترد کر دیا ہے۔

ترک حکومت بغاوت کی ناکام کوشش سے پہلے ہی گولن نیٹ ورک کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر چکی تھی۔ فتح اللہ گولن کے آسیہ بینک کو بند کرتے ہوئے اس کو حکومتی تحویل میں لے لیا گیا تھا۔ یہ وہی بینک ہے، جس کے افتتاح کے موقع پر صدر رجب طیب ایردوآن بھی فتح اللہ گولن کے ہمراہ تھے لیکن تب فتح اللہ گولن اور ترک صدر قریبی دوست اور اتحادی تھے۔

ترک صدر ایسے متعدد بڑے کاروباری افراد کو بھی گرفتار کر چکے ہیں، جن کے مبینہ طور پر فتح اللہ گولن سے روابط تھے اور وہ اس تنظیم کو مالی معاونت فراہم کر رہے تھے۔

ترکی کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھے والے کاروباری گروپ بوئدک ہولڈنگ کے نہ صرف چئیرمین بلکہ متعدد ایگزیکٹیو افسران کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بوئدک خاندان گزشتہ کئی عشروں سے ترکی کا مشہور ترین کاروباری خاندان ہے اور اس خاندان کی کمپنیاں توانائی اور فرنیچر کے شعبوں میں کام کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ ترکی کی سب سے بڑی پیٹرو کیمکلز کمپنی پیٹکیم کے سربراہ کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔

دوسری جانب ترک حکومت کی طرف سے بڑے کاروباری اداروں کے خلاف کارروائیوں سے ملکی معیشت کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے اور ترکی میں سرمایہ کاری کرنے والے غیرملکی ادارے بھی سرمایہ کاری کرنے کے فیصلوں میں تاخیر سے کام لے سکتے ہیں۔ ترکی میں کام کرنے والی ایک جرمن کمپنی ای ڈبلیو ای کے مطابق حالیہ دنوں میں ان کے کوئی سات سو ملازمین کمپنی چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

جرمنی ترکی میں سرمایہ کاری کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور 1980ء کے بعد سے بارہ ارب یورو کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ دوسری جانب ترک حکومت سرمایہ کاروں کے لیے ایک نئے پیکیج کا اعلان کرنے والی ہے، جس کے تحت ٹیکسوں میں کمی کے ساتھ ساتھ نئی مراعات پیش کی جائیں گی تاکہ کاروباری حلقوں میں گولن کے حامیوں کی گرفتاریوں کے باعث معیشت کو زیادہ نقصان نہ پہنچے۔

DW.COM