1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترک فوج کے ڈیڑھ سو جنرل برخاست، سو نشریاتی ادارے بھی بند

ترک فوج کے ڈیڑھ سو جنرل ملازمت سے برخاست جب کہ سو سے زائد ٹیلی وژن، ریڈیو اسٹیشن اور اخبارات بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد شروع کی جانے والی ان کارروائیوں کو ’تطہیری عمل‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

Türkei Ausnahmezustand: Folgen des Putsches

ناکام فوجی بغاوت میں تین سو کے قریب افراد ہلاک ہوئے

انقرہ سے جمعرات اٹھائیس جولائی کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق پندرہ جولائی کو ترک فوج کے قریب نو ہزار اہلکاروں پر مشتمل ایک دھڑے نے اقتدار پر قبضے کی جو کوشش کی تھی، وہ تقریباﹰ تین سو افراد کی ہلاکت کا سبب بنی تھی۔

اس ناکام بغاوت کے بعد انقرہ حکومت نے مکی فوج، عدلیہ، تعلیمی شعبے اور میڈیا میں وسیع تر کارروائیوں کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے، اس دوران ہزار ہا افراد کو ان کی سرکاری ملازمتوں سے برطرف کیا جا چکا ہے جب کہ قریب سولہ ہزار افراد بغاوت کی کوشش یا باغیوں کی حمایت کے الزام میں ابھی تک زیر حراست ہیں۔

ان اقدامات پر ترک اپوزیشن اور مغربی دنیا کی طرف سے تنقید بھی کی جا رہی ہے، جو ان بے تحاشا گرفتاریوں اور برطرفیوں کو ’تطہیری عمل‘ قرار دیتے ہیں۔

ترکی کے سرکاری گزٹ میں آج جمعرات کو شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق اس ناکام فوجی بغاوت کے جرم میں صرف فوج اور بحریہ میں جنرل اور ایڈمرل کے عہدے کے جن اعلیٰ افسروں کو ان کی ملازمتوں سے برخاست کیا گیا ہے، ان کی مجموعی تعداد 149 بنتی ہے۔

Türkei Bosphorus Brücke Panzer Kleidung und Helme von Soldaten

فوج کے باغی دھڑے میں شامل افراد کی تعداد مجموعی فوجی نفری کے ڈیڑھ فیصد کے برابر تھی

ترک حکومت کی طرف سے اس بغاوت کی کوشش کا الزام امریکا میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے بہت بااثر ترک مسلم مبلغ فتح اللہ گولن پر لگایا جاتا ہے اور انقرہ نے واشنگٹن حکومت سے یہ مطالبہ بھی کر رکھا ہے کہ امریکا گولن کو ملک بدر کر کے ترکی کے حوالے کرے۔

ترک سرکاری گزٹ کے مطابق ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے اب تک 87 ملٹری جنرل، 30 ایئر فورس جنرل اور بحریہ کے 32 ایڈمرل ملازمتوں سے برطرف کیے جا چکے ہیں۔ مجموعی طور پر ترک مسلح افواج کے ان انتہائی اعلیٰ افسروں کی تعداد 149 بنتی ہے۔ وہ 1100 فوجی افسر، 436 جونیئر افسر اور ہزاروں فوجی اس تعداد کے علاوہ ہیں، جنہیں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران آرمڈ فورسز سے نکالا گیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ترک شاخ کے مطابق انقرہ حکومت اب تک ملکی ذرائع ابلاغ کے خلاف بھی بہت سے اقدامات کر چکی ہے، خاص طور پر ان میڈیا اداروں کے خلاف جو صدر رجب طیب ایردوآن اور ان کی جماعت کے بارے میں ناقدانہ سوچ رکھتے ہیں۔

ٹرکش گزٹ کے مطابق اب تک ملک میں تین خبر رساں اداروں، 16 ٹیلی وژن اسٹیشنوں، 23 ریڈیو اسٹیشنوں، 45 اخبارات اور 15 جریدوں کی بندش کے حکومتی احکامات جاری کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ 29 اشاعتی اداروں کی بندش کا حکم بھی دیا جا چکا ہے۔

Türkei Demo für Medienfreiheit in Istanbul

ترکی میں میڈیا کی آزادی کے حق میں کیا جانے والا ایک احتجاجی مظاہرہ

یہی نہیں ترکی میں اس ہفتے کے اوائل میں 42 صحافیوں کی گرفتاری کے لیے وارنٹ بھی جاری کر دیے گئے تھے جب کہ کل بدھ ستائیس جولائی کے روز ماضی میں فتح اللہ گولن کے حامی اخبار ’زمان‘ کے، جسے اب سرکاری انتطام میں لیا جا چکا ہے، 47 سابق صحافیوں کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے گئے تھے۔

اسی دوران ترک وزیر خارجہ مولو چاوش اولو نے آج بتایا کہ فوج اور سرکاری محکموں میں ’تشکیل نو‘ کے اسی عمل کے دوران ترک وزارت خارجہ کے 88 اہلکار بھی برطرف کر دیے گئے ہیں۔

DW.COM