1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترک فوج کا کرد باغیوں کے خلاف آپریشن، سو سے زائد ہلاکتیں

ترک سکیورٹی ذرائع کے مطابق ملکی فوج کے ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں ممنوعہ کردستان ورکرز پارٹی کے مسلح باغیوں کے خلاف جاری وسیع تر آپریشن میں ہلاکتوں کی تعداد مزید اضافے کے بعد اب سو سے زائد ہو گئی ہے۔

Türkei Einsätze gegen die PKK

اس آپریشن کے لیے دس ہزار ترک فوجی تعینات کیے گئے ہیں

دیاربکر سے اتوار بیس دسمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ بدھ سولہ دسمبر کو کردستان ورکرز پارٹی PKK کے جنگجوؤں کے خلاف شروع کیا جانے والا ملکی فوج کا یہ آپریشن اپنے پانچویں دن میں داخل ہو گیا ہے اور ابھی تک جاری ہے۔

ایک ترک سکیورٹی اہلکار نے آج اے ایف پی کو بتایا کہ اس عسکری آپریشن میں اب تک ہلاک ہونے والے کرد باغیوں کی تعداد اب 102 ہو گئی ہے۔ کل ہفتہ انیس دسمبر تک یہ تعداد سرکاری طور پر 70 بتائی گئی تھی۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق سرکاری دستوں کی باغیوں کے ساتھ ہونے والی خونریز جھڑپوں میں اب تک دو فوجی اور کم از کم پانچ عام شہری بھی مارے جا چکے ہیں۔

کل ہفتے کے روز اپنے ایک بیان میں ترک فوج نے جن کم از کم 70 باغیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا، وہ سب کے سب کرد عسکریت پسندوں کی ممنوعہ پارٹی پی کے کے سے تعلق رکھنے والے جنگجو بتائے گئے تھے۔

مقامی میڈیا کے مطابق اس فوجی کارروائی کے لیے دس ہزار سرکاری فوجیوں کو ملک کے جنوب مشرق میں تعینات کیا گیا ہے، جنہیں ٹینکوں کی مدد بھی حاصل ہے۔ اس آپریشن کا مقصد کردستان ورکرز پارٹی کے حامی مسلح نوجوانوں کو وہاں کے شہری علاقوں سے نکالنا ہے۔

ملکی فوج کے ایک بیان کے مطابق اس عسکری مہم میں زیادہ تر صوبے سِرناک کے شہروں جیزرے اور سیلوپی اور دیاربکر کے چند علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دیاربکر اس خطے کا سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے۔

Türkei Kurden PKK Diyarbakir

دیاربکر میں پی کے کے کے حامی کرد نوجوانوں کا ایک پرتشدد مظاہرہ

قبل ازیں ترک فوج نے جمعے کے روز اپنے ایک بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ اس نے ترکی کے ساتھ سرحد کے پار شمالی عراق میں بھی مسلح کارروائیاں کی تھیں، جہاں کردوں کی اس کالعدم تنظیم کے جنگجوؤں نے اپنے اڈے قائم کر رکھے تھے۔

اس دوران عراقی سرزمین پر کرد باغیوں کی پناہ گاہوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا اور عسکریت پسندوں کے کئی ٹھکانے اور ہتھیاروں کی ذخیرہ گاہیں‘ بھی تباہ کر دی گئی تھیں۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات