1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترک فوجی دستے مشترکہ جنگی مشقوں کے لیے قطر پہنچ گئے

ترک فوجی دستے قطری فورسز کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں کے لیے دوحہ پہنچ گئے ہیں۔ ان مشقوں کے لیے ترک فوجیوں کی تعیناتی اس تیز رفتار قانون سازی کے بعد ممکن ہوئی، جو انقرہ کی پارلیمان نے قطر کا بحران پیدا ہونے کے بعد کی تھی۔

default

ترک صدر ایردوآن، دائیں، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے ساتھ

خلیجی عرب ریاست قطر کے دارالحکومت دوحہ سے پیر انیس جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ ٹیلی وژن نے آج پیر کے روز بتایا کہ ترک فوجی دستے کل اتوار اٹھارہ جون کو قطر پہنچے تھے۔

ساتھ ہی الجزیرہ نے اپنی ویب سائٹ پر ایک ایسی ویڈیو بھی پوسٹ کی ہے، جس میں بکتر بند گاڑیوں میں سوار ترک فوجی دستوں کو قطر کی سڑکوں پر متحرک حالت میں دیکھا جا سکتا ہے۔

بحرین نے قطری فوجیوں کو نکال دیا

یورپی حمایت سے خلیجی بحران حل ہو جائے گا، قطری سفیر

سعودی قطر تنازعہ، شامی باغی پریشان

قطر کے ساتھ سعودی عرب اور چند دیگر خلیجی عرب ریاستوں کی طرف سے سفارتی تعلقات منقطع کیے جانے اور اس امارت کی انہی ملکوں کی طرف سے زمینی، فضائی اور سمندری ناکہ بندی کیے جانے کے بعد جو بحران پیدا ہوا تھا، اس کے ردعمل میں صرف دو دن بعد ہی ترک پارلیمان نے سات جون کو بہت جلدی میں ایسی قانون سازی کی تھی، جس کے تحت قطر کے ایک فوجی اڈے پر ترک فوجی دستوں کی تعیناتی کی منظوری دے دی گئی تھی۔

Symbolbild - Katar - Flagge

متعدد خلیجی عرب ریاستوں نے دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام لگاتے ہوئے قطر کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے

روئٹرز کے مطابق قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کے فیصلے کے بعد خلیج فارس کے خطے میں جو صورت حال پیدا ہوئی ہے، اسے گزشتہ کئی برسوں کے دوران اس علاقے میں پیدا ہونے والے شدید ترین سیاسی بحران کا نام دیا جا رہا ہے۔

قطری بحران: جنوبی ایشیائی محنت کشوں کا مستقبل کیا ہو گا؟

قطر امریکا سے بارہ ارب مالیت کے جنگی جہاز خریدے گا، معاہدہ طے

قطر کی تنہائی ’اسلامی اقدار‘ کے خلاف ہے، ایردوآن

قطر میں ایک فوجی اڈے پر اس وقت تعینات ترک فوجی دستوں کی تعداد قریب 90 بتائی گئی ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق ترک اور قطری فوجی دستوں نے اس عرب ریاست میں اپنی پہلی مشترکہ فوجی مشق کل اتوار کے روز طارق بن زیادہ ملٹری بیس پر کی۔

قطری فوج کے مطابق دونوں ملکوں کے فوجی دستوں نے اب تک جو مشترکہ جنگی مشقیں کی ہیں اور جو آئندہ کی جائیں گی، ان کا منصوبہ کافی عرصہ پہلے تیار کیا گیا تھا۔

DW.COM