1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترک فوجی آپریشن کو صدر بش کی ہری جھنڈی

ترک فضائیہ نے ترک سرحد کے قریب عراقی علاقے میں علیحدگی پسند کرد تنظیم PKK کردستان ورکرز پارٹی کے مسلح کارکنوں پر آج بھی بمباری کی۔فوج نے رواں ماہ کے دوران اپنی مختلف کارروائیوں میں کم از کم ایک سو پچاس باغیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

default

ترک فوجی ذرائع نے خبر رساں اداروں کو آج کی فضائی کارروائی کے بارے میں بتایا کہ ترک جنگی طیاروں نے کرد باغیوں پر بمباری کی تاہم یہ کارروائی گُذشتہ ہفتوں کے دوران ہونے والی کارروائیوں کے مقابلے میں کم شدت کی تھی۔گُذشتہ ہفتے عراقی حکام کے مطابق تقریباً تین سو ترک فوجی شمالی عراق میں داخل ہوگئے تھے۔ترک فوج کاکہنا ہے کہ مقصد شمالی عراق میں علیحدگی پسند کرد باغی تنظیم PKK کردستان ورکرز پارٹی کے مسلح کارکنوں کے خلاف کاروائی کرنا ہے۔شمالی عراق کے کرد اکثریتی صوبے Dahuk میں ہونے والے آج کے حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

ادھر امریکی صدر جورج ڈبلیو بش نے کرد باغیوں کے خلاف ترکی کی فوجی مداخلت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ باغیوں سے نمٹنے کے لئے امریکہ اور ترکی کو ایک ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔اس حوالے سے صدر بش نے ترک وزیر اعظم رجب طیب ایددوگان سے ٹیلیفون پر بات چیت بھی کی ہے۔دوسری جانب عراق کے کرد علاقوں کے صدر مسعود برزانی نے ترکی کو خبردار کیا ہے کہ وہ کرد باغیوں کے خلاف اپنے آپریشن اور شمالی عراق میں باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے بند کردے۔انہوں نے کہا کہ بمباری کے نتیجے میں وہ شہریوں کی ہلاکت کو کبھی برداشت نہیں کر سکیں گے۔
ترک فوج کی کارروائیوں کے نتیجے میں دونوںہمسایہ ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

کردستان ورکرز پارٹی PKK 1978میں وجود میں آئی تھی۔ 1984 میں اس باغی جماعت نے علیحدگی پسند کردوں کی اپنی ایک ریاست کے قیام کے لئے مسلح کارروائیاں شروع کردی تھیں۔ امریکہ اور یورپی یونین PKKکو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔ کرد باغیوں کی اس پارٹی کو اپنی خونریز کارروائیوںمیںکل قریب 40ہزار انسانوںکو ہلاک کردینے کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ماہرین کا اندازہ ہے کہ کرد باغیوں کی مجموعی تعداد تین ہزارکے قریب ہے اور تاحال بغداد حکومت ان کی کارروائیوں پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔

حالیہ کارروائی سے پہلے 1995میں بھی ترک فوج نے مسلسل چھ ہفتوں تک شمالی عراق میں پناہ لینے والے کرد علیحدگی پسندوں کے خلاف آپریشن کیا تھا لیکن تب اس آپریشن کا فوجی مقصد پورا نہیں ہو سکا تھا۔ پھر 1997میں بھی 15ہزار ترک فوجی شمالی عراق میںداخل ہوگئے تھے اور مسلح کردوں کے خلاف دوبارہ کارروائی کی گئی تھی۔ شمالی عراق میں کرد باغیوں پر الزام ہے کہ وہ عراق اور ترکی کے درمیان سرحدی علاقے کے علاوہ ترک ریاست کے وسطی حصے میں بھی مسلح کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔