1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترک فضائی حملوں، گولہ باری میں کم از کم 35 شامی شہری ہلاک

شام میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے عسکریت پسندوں اور کُرد جنگ جوؤں کے خلاف ترکی کی فوجی کارروائی کے پانچویں دن آج اتوار اٹھائیس اگست کے روز ترک دستوں کی گولہ باری اور فضائی حملوں میں کم از کم پینتیس عام شامی شہری ہلاک ہو گئے۔

Türkei Offensive gegen IS in Syrien

اتوار اٹھائیس اگست کو جرابلس کے جنوب میں ترک فضائی بمباری اور توپ خانے سے گولہ باری کم از کم بیس شہری ہلاکتوں کی وجہ بنیں

لبنانی دارالحکومت بیروت سے ملنے والی رپورٹوں میں نیوز ایجنسی اے ایف پی نے لکھا ہے کہ شامی شہریوں کی ان ہلاکتوں کی شامی اپوزیشن تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بھی تصدیق کر دی ہے۔

اس تنظیم کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ترک دستوں کے فضائی حملوں اور توپ خانے سے کی جانے والی گولہ باری میں آج اتوار کی صبح کم از کم 20 شامی سویلین ہلاک اور 50 دیگر زخمی ہو گئے۔‘‘ عبدالرحمان کے مطابق انقرہ کے فوجی دستوں نے یہ حملے ترکی کے ساتھ سرحد کے قریب واقع شامی شہر جرابلس سے جنوب میں واقع ایک گاؤں جبل القُصہ میں کیے۔

اس کے علاوہ رامی عبدالرحمان ہی کے مطابق al-Amarna نامی ایک اور گاؤں کے قریب ایک زرعی فارم کو آج ترک فوج نے فضائی حملوں سے نشانہ بنایا۔ یہاں بھی کم از کم 15 افراد ہلاک اور 20 دیگر زخمی ہو گئے۔ اس طرح ترک فوج کی آج کی بمباری اور گولہ باری میں مجموعی طور پر 35 شامی شہری ہلاک اور 70 کے قریب زخمی ہوگئے۔

انقرہ حکومت کا کہنا ہے کہ ترکی کے ساتھ شام کے سرحدی علاقے میں ان کارروائیوں کی وجہ وہ کُرد ملیشیا فائٹر ہیں، جو وہاں کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ترکی نہیں چاہتا کہ شامی علاقے میں لیکن اس کی اپنی سرحد کے قریب صورت حال ایسے کرد جنگ جوؤں کے کنٹرول میں ہو، جو واضح طور پر انقرہ کے خلاف ہیں۔

Syrien Krieg - Türkei Offensive gegen IS in Dscharabulus

ترکی نے شامی سرحدی علاقے میں ’آپریشن فرات شیلڈ‘ کا آغاز پانچ روز قبل کیا تھا

اسی لیے ترکی نے اپنا یہ فوجی آپریشن شروع کیا تھا، جس کا آج اتوار کو پانچوان دن ہے، اور جسے ترک فوج نے ’فرات کی ڈھال‘ کا نام دے رکھا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق ترک افواج کے زمینی اور فضائی حملوں میں آج کم از کم بیس شامی شہریوں کی ہلاکت سے صرف ایک روز قبل کل ہفتے کو ترک زمینی دستوں کو وہاں پہلا جانی نقصان برداشت کرنا پڑا تھا، جب ان عسکری کارروائیوں میں ان کا ایک فوجی مارا گیا تھا۔

جرابلس کے جنوب میں واقع ایک قصبے الامرنہ میں ہونے والا یہ تصادم وہ پہلا موقع تھا کہ آپریشن ’فرات شیلڈ‘ کے دوران ٹینکوں کی مدد سے آگے بڑھنے والے ترک دستوں کی کرد نواز جنگ جوؤں کے ساتھ باقاعدہ جھڑپیں ہوئی تھیں۔

سیریئن آبزرویٹری کے مطابق ترک دستوں نے ٹینکوں کی مدد سے جرابلس میں اپنی فوجی مداخلت کے پہلے ہی روز اس شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔ ماضی میں یہ شامی سرحدی شہر عسکریت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کا ایک بڑا علاقائی مرکز رہا تھا۔ آج اپنے حملوں میں ترک دستوں نے زیادہ تر جرابلس کے جنوب میں واقع علاقے کو نشانہ بنایا۔

جبل القُصہ نامی گاؤں، جہاں سیریئن آبزرویٹری کے مطابق اتوار کی صبح بیس شہری ہلاک اور پچاس زخمی ہو گئے، جرابلس سے جنوب کی طرف نو میل یا چودہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ گاؤں ابھی تک ان مقامی جنگ جوؤں کے کنٹرول میں ہے، جنہیں ترک مخالف کرد فورسز کی حمایت حاصل ہے۔

برطانیہ میں قائم اس آبزرویٹری کے سربراہ نے یہ بھی بتایا کہ آج کی بم باری میں جبل القُصہ میں کئی کرد نواز جنگ جو بھی مارے گئے تاہم ان کی اصل تعداد آخری اطلاعات ملنے تک غیر واضح تھی۔

DW.COM