1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترک عدالت کا انسانی حقوق کے آٹھ کارکنوں کی رہائی کا حکم

ترکی کی ایک عدالت نے انسانی حقوق کے لیے سرگرم آٹھ زیر حراست کارکنوں کو جیل سے رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ حکم کم از کم اس وقت تک مؤثر رہے گا جب تک ان افراد پر دہشت گردی سے متعلق الزامات کی عدالتی سماعت جاری ہے۔

ترکی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سربراہ اِیدل اَیسر، جرمن شہری پیٹر شٹوئڈٹنر اور سویڈش باشندے علی غراوی سمیت ان افراد کو اس سال جولائی میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ ایک ڈیجیٹل سکیورٹی ٹریننگ ورکشاپ میں شریک تھے۔ ان گرفتاریوں کے بعد ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے خود پسندانہ طرز حکومت کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو گیا تھا۔

چھبیس اکتوبر بروز بدھ استنبول کی ایک عدالت نے اس مقدمے کی اولین سماعت کے دوران وہاں موجود دس ملزمان میں سے آٹھ کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ اب یہ آٹھوں ملزمان کم از کم اس مقدمے کے فیصلے تک جیل سے باہر رہیں گے۔ دیگر دو افراد کو پہلے ہی جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔

گیارہویں ملزم اور ایمنسٹی انٹرنیشنل ترکی کے چیئرمین  تانَیر کیلِچ پر ایک دوسرے شہر میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے اور وہ ابھی جیل ہی میں رہیں گے۔ جن دس ملزمان کی حراست کے بارے میں عدالت نے سماعت کے پہلے روز اپنا حکم سنایا، ان پر استغاثہ کی طرف سے ملک سے بغاوت اور علیحدگی پسند کردوں کے علاوہ بائیں بازو کے عسکریت پسندوں کی معاونت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

انسانی حقوق کے انہی کارکنوں پر امریکا میں مقیم ترک جلا وطن مبلغ فتح اللہ گولن کی تحریک کے لیے کام کرنے کا بھی الزام ہے۔ اگر ان ملزمان کے خلاف الزامات ثابت ہو گئے، تو ان میں سے ہر کسی کو پندرہ برس تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے ان کارکنوں کی فی الحال رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنظیم ترکی میں انسانی حقوق کا دفاع جاری رکھے گی۔

جرمن وزیر خارجہ زیگمار گابریئل نے بھی جرمن شہری شٹوئڈنر کی رہائی کے عدالتی حکم کا خیر مقدم کیا ہے۔ گابریئل نے کہا کہ برلن حکومت کو امید ہے کہ ترکی میں مختلف مقدمات میں زیر حراست دیگر جرمن شہریوں کو بھی جلد ہی رہا کر دیا جائے گا۔

DW.COM