1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترک صدر کے نئے اختیارات کے حوالے سے بحث شروع

ترک پارلیمان میں اُس نئے ملکی آئین کے موضوع پر بحث کا آغاز ہو گیا ہے، جس کا مقصد ترکی میں صدارتی نظام رائج کرنا ہے۔ نئے آئین کے تحت ملک میں وزیر اعظم کا عہدہ نہیں ہو گا اور تمام تر اختیارات صدر کے ہاتھ میں ہوں گے۔

ناقدین کو خدشہ ہے کہ صدر رجب طیب ایردوآن اس نئے آئین کے ذریعے اپنی طاقت کو مزید مستحکم بنانا چاہتے ہیں۔ سرکاری نیوز ایجنسی انادولُو کے مطابق یہ بحث تقریباً دو ہفتے تک جاری رہے گی۔ ایردوآن کی جماعت اے کے پی کو پارلیمنٹ میں نئے آئین کے لیے مطلوبہ ساٹھ فیصد اکثریت حاصل کرنے کی غرض سے دائیں بازو کی جماعت ایم ایچ پی کی تائید کی ضرورت پڑے گی۔ پارلیمنٹ کی جانب سے منظوری کے بعد ساٹھ روز کے اندر اندر آئین کے مسودے پر ریفرنڈم کروانا ضروری ہو گا۔ اطلاعات کے مطابق اس حوالے سے آئندہ موسم بہار میں ریفرنڈم کروایا جا سکتا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن سن دو ہزار تین سے دو ہزار چودہ تک وزیراعظم رہے ہیں اور دو ہزار چودہ میں صدر بننے کے بعد اب وہ اپنی ہی ذات کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب برسر اقتدار جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی (اے کے پی) کا کہنا ہے کہ ملک میں صدارتی نظام کے نفاذ سے ان کا ملک فرانس اور امریکا جیسے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا اور ملک میں انتظامی امور کو اچھی طرح اور بہتر انداز میں چلایا جا سکے گا۔

ترک انتخابات: صدارتی یا پارلیمانی نظام کے لیے فیصلہ کن جنگ

 ترکی کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ری پبلکنز پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) اس مجوزہ آئین کی مخالفت کر رہی ہے۔ اس جماعت کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح صدارتی محل میں وہ تمام طاقت جمع ہو جائے گی، جو ایک صدی پہلے عثمان سلطان سے واپس لی گئی تھی۔

 اس پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین کا کہنا تھا، ’’وہ سب کچھ ہوا میں تحلیل ہو جائے گا، جسے ترک جمہور نے حاصل کیا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس نظام کو لانے کا مطلب ہے کہ آپ ’’ایک شخص کی ڈکٹیٹر شپ‘‘ کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔

ان کے جواب میں مجوزہ نئے آئین کی تیاری میں شریک رہنے والے اے کے پی کے قانون ساز حلیل فرات کا کہنا تھا، ’’حکومت کے ہر شخص کے کردار کو واضح کیا گیا ہے۔ اس سے ملک میں استحکام آئے گا اور  فیصلہ سازی کا عمل آسان ہو جائے گا۔‘‘

DW.COM