1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترک صدر کی یورپی یونین کو دھمکی: تین سوال تین جواب

تُرک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ اگر یورپی یونین نے ان کے ملک کو دھمکانے کا سلسلہ جاری رکھا تو وہ مہاجرین کے لیے یورپ کا راستہ کھول دیں گے۔ اس بارے میں پڑھیے تین اہم سوالات کے جوابات۔

تُرک صدر کی طرف سے یورپی یونین کو دی جانے والی اس دھمکی کی وجہ کیا ہے؟

تُرک صدر رجب طیب ایردوآن کی جانب سے اس قدرے سخت بیان کی فوری وجہ تو گزشتہ روز یورپی پارلیمان میں منظور کی جانے والی ایک قرارداد ہے۔ یہ قرارداد ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے لیے جاری مذاکراتی عمل کو منجمد کرنے کے حق میں منظور کی گئی۔ قرارداد میں یورپی یونین کو تجویز دی گئی ہے کہ وہ انقرہ حکومت کے ساتھ رکنیت سے متعلق مذاکرات اس وقت تک کے لیے روک دے جب تک ترکی ملک میں جاری کریک ڈاؤن کا سلسلہ نہیں روکتا۔ جولائی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے تُرکی میں یہ کریک ڈاؤن جاری ہے۔ ایردوآن نے اپنے خطاب میں مہاجرین کے حوالے سے ترکی اور یورپی یونین کے درمیان رواں برس مارچ میں  طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد نہ کرنے کا بھی شکوہ کیا ہے۔

ترکی اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں وہ کون سے معاملات تھے جن پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہو سکا؟

انقرہ حکومت اور یورپی یونین کے درمیان طے یہ پایا تھا کہ ترکی مہاجرین کو یورپی یونین پہنچنے سے روکے اور اس کے بدلے میں ترکی کو یورپی یونین کی رکنیت دینے کے لیے جاری مذاکرات  میں تیزی لائی جائے گی۔ اس کے علاوہ اسی معاہدے کے مطابق ترک شہریوں کو رواں برس اکتوبر سے شینگن ممالک کے ویزہ فری سفر کی اجازت بھی ملنا تھی۔ ترکی کی جانب سے مہاجرین کا راستہ تو روک لیا گیا مگر اب تک یورپی یونین کی جانب سے ان اس شِقوں پر عمل درآمد ممکن نہیں ہوا ہے۔ ایردوآن کا الزام ہے کہ برسلز اس معاہدے کی پاس داری نہیں کر رہا ہے۔

Gebäude des EU-Parlaments in Brüssel (DW/M. Böhnisch)

برسلز میں قائم یورپی پارلیمان

اس وقت تُرکی میں کتنے مہاجرین موجود ہیں جو سرحد کھول دیے جانے کی صورت میں یورپ کا رُخ کر سکتے ہیں؟

ترکی میں اس وقت موجود مہاجرین کی تعداد کا ذکر صدر ایردوآن نے اپنے خطاب میں بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ترکی اس وقت تین سے ساڑھے تین ملین مہاجرین کو پناہ دیے ہوئے ہے۔ ظاہر ہے اگر تُرکی ان مہاجرین کو آگے جانے کی اجازت دے دیتا ہے تو ان کی زیادہ تر تعداد یورپ ہی کا رُخ کرے گی اور نتیجتاﹰ یورپی یونین کو ایک بار پھر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہاں یہ بھی آپ کو بتاتا چلوں کہ صرف گزشتہ برس تُرکی کے راستے یورپ پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد ایک ملین یعنی دس لاکھ سے زائد تھی۔