1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترک صدر کی فرضی سیلفی، میگزین کے دفتر پر چھاپہ

ترک پولیس نے ایک میگزین کے دفتر پر چھاپہ مارتے ہوئے وہاں موجود میگزین کی تمام کاپیاں اپنے قبضے میں لے لی ہیں۔ اس میگزین نے ترک صدر کی ایک فرضی سیلفی شائع کی ہے، جس میں وہ ایک فوجی کی میت کے سامنے مسکرا رہے ہیں۔

میگزین کی طرف سے یہ فرضی سیلفی ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے اس تبصرے کے تناظر میں شائع کی گئی ہے، جس میں انہوں نے یہ کہا تھا کہ کرد باغیوں کے حملوں میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہلخانہ کو اپنے عزیزوں کی ’شہادت‘ پر خوش ہونا چاہیے۔ میگزین کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس میگزین کا سر ورق آن لائن شائع کیا گیا تھا، جس کے بعد استنبول پراسیکیوٹر  نے نُقطہ میگزین کی تقسیم پر پابندی عائد کر دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ’’ترک صدر کی توہین اور دہشت گردانہ پروپیگنڈا کرنے کی بنیاد‘‘ پر آفس پر چھاپہ مارا گیا ہے۔

میگزین کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے، ’’ پولیس کے چھاپے کی وجہ بننے والا سر ورق شاید سخت ہے اور اسے تقسیم کرنا شاید ظلم بھی ہو لیکن میڈیا آرگنائزیشنز کے لیے یہ کوئی جرم نہیں ہے، یہ ہمارا بولنے کا طریقہ ہے۔‘‘

ترک صدر کی جو تصویر شائع کی گئی ہے، اس میں رجب طیب ایردوآن کی شرٹ پر سلوٹیں پڑی دیکھی جا سکتی ہیں جبکہ وہ مسکراتے ہوئے اپنی سیلفی لے رہے ہیں اور ان کے پس منظر میں ایک فوجی کا تابوت لے جایا جا رہا ہے، جس کو ترکی کے سرخ رنگ کے پرچم میں لپیٹا گیا ہے۔

اس تصویر سے یہ بھی واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ ترک فوجیوں کو کرد باغیوں کے ہاتھوں واضح طور پر جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کرد باغی ایک سو سے زائد ترک سکیورٹی اہلکار ہلاک کر چکے ہیں۔ یہ تصویر ترک صدر کے اس تبصرے کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے، جو انہوں نے فوجی ہلاکتوں کے بارے میں کیا تھا۔ ترک صدر نے ایک فوجی کے جنازے میں شرکت کرتے ہوئے کہا تھا، ’’احمد کی فیملی اور اس کے قریبی رشتہ دار خوش قسمت ہیں کہ وہ ایک مقدس مقام پر پہنچ گیا ہے۔‘‘ ترک صدر کے اس بیان پر ان کے مخالفین کی طرف سے شدید تنقید کی گئی تھی۔ ورلڈ پریش فریڈم کی درجہ بندی کے لحاظ سے دنیا کے ایک سو اسی ممالک میں سے ترکی 154 پر آتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق کرد ترکی کی مجموعی آبادی کا بیس فیصد بنتے ہیں۔ عراق، ایران اور شام بھر میں بکھرے ہوئے کردوں کی کل آبادی پچیس سے پینتیس ملین کے قریب ہے۔ علیحدگی پسند کرد باغیوں نے 1984ء سے ترک حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھا رکھے ہیں۔ ان کی مسلح بغاوت اور ترک سکیورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی میں اب تک پینتالیس ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔