1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ترک صدر کا الزام اور يورپی يونين کی ترديد

ترک صدر نے يورپی يونين پر تنقيد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہاجرين کی ترکی واپسی کے بدلے مالی معاونت سے متعلق معاہدے پر يورپی يونين نے اپنی ذمہ دارياں پوری نہيں کی ہيں جبکہ يورپی يونين نے اس الزام کو مسترد کر ديا ہے۔

يورپی کميشن کی جانب سے ترک صدر کے حاليہ بيان کی ترديد کرتے ہوئے کہا گيا ہے کہ یورپی بلاک ترکی کے ساتھ طے پانے والی ڈيل کی شرائط پوری کر رہا ہے۔ کميشن کے ترجمان مارگاريٹاس سنچاس کے بقول انقرہ حکومت کو شرائط کے تحت اب تک 740 ملين يورو ادا کيے جا چکے ہيں جبکہ اسی ماہ کے اختتام تک امدادی رقوم کی ماليت 2.1 بلين يورو تک پہنچ جائے گی۔

اس کے برعکس ترک صدر ايردوآن کے مطابق معاہدے کی شرائط کے تحت اٹھائيس رکنی يورپی بلاک کو تين بلين يورو کی ادائيگی کرنی تھی تاہم اب تک صرف ايک سے دو ملين يورو ہی ادا کيے گئے ہيں۔ ترک صدر نے يہ تنقيد رواں ہفتے کے آغاز پر جرمن دارالحکومت برلن ميں ايک جرمن نشرياتی ادارے ’اے آر ڈی‘ سے بات چيت کے دوران کی۔

رواں سال مارچ ميں ترکی اور يورپی يونين کے مابين طے پانے والے متنازعہ معاہدے کے تحت ترکی نے سياسی و مالياتی مراعات کے بدلے معاہدے کے اطلاق کے بعد يونانی جزائر پر پہنچنے والے تمام شامی مہاجرين کو واپس لينے کا کہا تھا۔ ڈيل کے تحت انقرہ کو نہ صرف اپنی سرزمين پر شامی مہاجرين کی ديکھ بھال کے ليے کئی بلين ڈالر دينے کا کہا گيا تھا بلکہ ترک شہريوں کے ليے بغير ويزے يورپی يونين ميں داخلے سے متعلق ايک عرصے سے تعطلی کی شکار ڈيل کو بھی حتمی شکل دی جانا تھی۔ تاہم پہلے ترکی ميں سياسی افراتفری اور پھر حاليہ دنوں ميں وہاں ناکام فوجی بغاوت کے بعد تبديل ہونے والے سياسی منظر نامے کے بعد برسلز اور انقرہ کے تعلقات ميں کھنچاؤ دکھائی دے رہا ہے۔

جرمن ادارے ’اے آر ڈی‘ سے بات چيت کرتے ہوئے ايردوآن نے کہا کہ يورپی حکومتيں ديانت دار نہيں۔ انہوں نے کہا کہ شام اور عراق کے تقريباً تين ملين شہری ترکی ميں پناہ ليے ہوئے ہيں اور ان کی ديکھ بھال کے ليے يورپی امداد کے وعدے پورے نہيں کيے گئے۔ صدر ايردوآن کے اندازے کے مطابق ترکی نے پناہ گزينوں کی ضروريات پوری کرنے پر اب تک بارہ بلين ڈالر خرچ کيے ہيں۔

حاليہ مظاہروں کے دوران استنبول کے تقسيم اسکوائر کا ايک منظر

حاليہ مظاہروں کے دوران استنبول کے تقسيم اسکوائر کا ايک منظر

جرمن نشرياتی ادارے کو ديے اپنے انٹرويو ميں رجب طيب ايردوآن نے يہ بھی کہا کہ ترکی ميں سزائے موت کی بحالی ملکی عوام کی خواہشات کے مطابق کی گئی ہے۔ انہوں نے اپنی حکومت کے اس حاليہ اقدام کا جواز پيش کرتے ہوئے کہا، ’’ہم ايک جمہوری نظام کے تحت چل رہے ہيں جہاں عوام فيصلے کرتے ہيں۔ آج کل لوگ يہی مطالبہ کر رہے ہيں کہ سزائے موت بحال کی جائے۔‘‘ ايردوآن نے ان اقدامات کی مزيد وضاحت کے ليے يہ بھی کہا کہ سزائے موت پر عملدرآمد دنيا بھر ميں کئی مقامات پر جاری ہے۔ ترک صدر ان دنوں پندرہ اور سولہ جولائی کو اپنے ہاں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے مشتبہ ملزمان اور اس کی مبينہ حمايت کرنے والوں کے خلاف کارروائی ميں مصروف ہيں۔ يہ امر اہم ہے کہ ترکی نے يورپی يونين ميں شموليت کے ليے اپنے امکانات بڑھانے کی غرض سے سن 2004 ميں سزائے موت دينا بند کر دی تھی۔