1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترک صدر: ’مسلمانوں کے خلاف تعصب بڑھ رہا ہے‘

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے واشنگٹن کے قریب عثمانیہ مساجد کی طرز پر تعمیر کیے گئے ایک اسلامک سینٹر کا افتتاح کیا ہے۔ ترک رہنما نے اس موقع پر اس بات کی نفی کی کہ وہ ایک جابر حکمران ہیں۔

ترک صدر نے ہفتے کے روز واشنگٹن کے قریب ایک سو دس ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیے جانے والے ایک اسلامی ادارے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر ایردوآن کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں مسلمان تعصب کا شکار ہیں۔

ترک صدر کہتے ہیں، ’’بد قسمتی سے ہم ساری دنیا میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف عدم برداشت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صرف امریکا میں نہیں بلکہ عالم گیر سطح پر۔‘‘

تاہم مبصرین کی رائے میں ترک صدر جس طرز کی عدم برداشت کی بات کر رہے ہیں، اس کی نظیر موجودہ ترکی میں دیکھی جا سکتی ہے۔ ملک اور ملک سے باہر ایردوآن کی جارحانہ سیاست پر تنقید کی جا رہی ہے، ایسی سیاست جس میں سیاسی دشمنوں کو ’’دہشت گرد‘‘ کہنے کی روایت پڑ چکی ہے۔

جمعرات کے روز امریکا میں ترک صدر کی حفاظت پر مامور ترک اہل کاروں کی صحافیوں اور حکومت مخالف مظاہرین کے ساتھ جھڑپ ہوئی اور سکیورٹی اہل کاروں نے ایک حکومت مخالف صحافی کو اس آڈیٹوریم سے باہر نکال دیا، جہاں صدر تقریر کر رہے تھے۔ ایک صحافی کو بروکنگز انسٹیٹیوشن کے باہر لاتیں ماری گئیں اور تیسرے کو زمین پر گرا دیا گیا۔ یہ امریکیوں کے لیے ترک انتظامیہ کے ہاتھوں مخالفین کے ساتھ بدسلوکی کی ایک جیتی جاگتی مثال تھی۔

اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے واشنگٹن کے نیشنل پریس کلب کے صدر تھوماس بر کا کہنا تھا: ’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ ترکی میں انسانی حقوق اور آزادیٴ صحافت کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘‘

Washington Nukleargipfel Anti Erdogan Demonstranten

مبصرین کی رائے میں ترک صدر جس طرز کی عدم برداشت کی بات کر رہے ہیں، اس کی نظیر موجودہ ترکی میں دیکھی جا سکتی ہے

جمعے کے روز امریکی صدر باراک اوباما نے بھی ترکی میں جابرانہ طرز حکمرانی پر تفکر کا اظہار کیا۔ ’’یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ ترکی میں کچھ ایسے رجحانات پیدا ہو گئے ہیں جن پر مجھے تشویش ہے۔ میرا خیال ہے کہ صحافت سے متعلق ترکی نے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ اس کے لیے پریشان کن ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘

بین الاقوامی صحافتی تنظیم رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے آزادیٴ صحافت سے متعلق عالمی درجہ بندی میں ایک سو اسّی مالک کی فہرست میں ترکی کو ایک سو انچاس ویں نمبر پر رکھا ہے۔ اس کی وجہ اس نے صدر ایردوآن کی پالیسیاں قرار دی ہے۔