ترک شہری امریکا کا سفر کرنے میں محتاط رہیں، ترک حکومت | حالات حاضرہ | DW | 13.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترک شہری امریکا کا سفر کرنے میں محتاط رہیں، ترک حکومت

ترکی نے اپنے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ امریکا کا سفر کرنے سے باز رہیں کیونکہ انہیں وہاں خلاف قانون گرفتاریوں کا سامنا ہو سکتا ہے اور اگر وہ اس کے باوجود بھی امریکا کا سفر کرنے کا فیصلہ کریں تو انتہائی محتاط رہیں۔

ترک حکومت کی طرف سے امریکا کے حوالے سے یہ جوابی اقدام نیٹو اتحاد میں شامل ان دونوں ممالک کے درمیان پیدا شدہ حالیہ تناؤ کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے قبل ازیں رواں ہفتے ہی اپنے شہریوں کو ترکی کا سفر کا ارادہ رکھنے والے اپنے شہریوں کو انتباہ جاری کیا گیا تھا۔ انہیں کہا گیا کہ بہتر ہے کہ وہ ترکی کا سفر نہ کریں کیونکہ انہیں وہاں دہشت گردی اور گرفتاریوں کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

ترکی نیٹو اتحاد میں شامل واحد اسلامی ملک اور مشرق وُسطیٰ میں امریکا کے اہم ترین حلیفوں میں سے ایک ہے۔ تاہم حالیہ چند ماہ کے دوران مختلف معاملات پر انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔ انہی میں سے ایک، امریکا کی طرف سے ایک ترک بینکار کی گرفتاری اور اس پر فرد جرم عائد کیے جانے کا معاملہ بھی شامل ہے جسے ایران کے خلاف عائد پابندیوں کے تناظر میں گرفتار کیا گیا۔ فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے کرنے کا انقرہ حکومت کا مطالبہ بھی انہی معاملات میں شامل ہے۔ ترک حکومت 2016 میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کا منصوبہ ساز فتح اللہ گولن کو قرار دیتی ہے تاہم وہ اس سے انکاری ہیں۔

ترک وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے انتباہ کے مطابق، ’’امریکا کا سفر کرنے والے ترک شہریوں کو ایسے ذرائع کی شہادتوں کے باعث خلاف قانون گرفتاریوں کا سامنا ہو سکتا ہے، جن کی کوئی عزت نہیں۔‘‘

ترک بینکر کے خلاف چلائے جانے والے مقدمے کے دوران ترکی کے کچھ سابق سینیئر اہلکاروں کی طرف سے اس کی بدعنوانی کے بارے میں دی گئی گواہیاں بھی شامل تھیں۔ انقرہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ الزامات غلط تھے اور یہ سازش فتح اللہ گولن نیٹ ورک کی طرف سے تیار کی گئی تھی۔

USA Fethullah Gülen bei einer Pressekonferenz

ترک حکومت 2016 میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کا منصوبہ ساز فتح اللہ گولن کو قرار دیتی ہے تاہم وہ اس سے انکاری ہیں۔

ترکی واشنگٹن حکومت پر شام میں لڑنے والے کُرد جنگجوؤں کی حمایت کا الزام بھی عائد کرتا ہے۔ انقرہ حکومت کے مطابق یہ جنگجو اس کُرد عسکری گروپ کے اتحادی ہیں جو ترکی میں بغاوت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔