1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ترک سرحدی پالیسی شامیوں کے لیے مصیبت، ایچ آر ڈبلیو

ترکی کی طرف شام کے ساتھ ملنے والی اپنی سرحد بند کیے جانے کے باعث جنگ زدہ شام کے شہری ملک سے فرار ہونے کے لیے اسمگلروں کی مدد حاصل کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومین رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق شامی باشندے خانہ جنگی کے شکار اپنے وطن سے فرار کی خاطر انسانوں کے اسمگلروں کی مدد لے رہے ہیں۔

رپورٹ میں مختلف شامی مہاجرین سے حاصل کی گئی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اب شامی شہری رات کی تاریکی میں اسمگلروں کی جانب سے اختیار کیے جانے والے خطرناک اور دشوار گزار راستوں کے ذریعے ترکی میں داخل ہو رہے ہیں۔

اس رجحان میں اضافے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ شام کے شہری عورتوں اور بچوں کے ہمراہ ایسے راستوں پر سفر کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں جہاں اکثر بھاری فائرنگ جاری رہتی ہے۔ ایچ آر ڈبلیو سے وابستہ مہاجرین پر تحقیق کرنے والے محقق گیری سمپسن نے بتایا، ’’ترکی کی جانب سے سرحد بند کیے جانے کے باعث شام کی ہولناک صورت حال سے بھاگ کر آنے والی حاملہ خواتین، بزرگوں، بچوں اور بیمار افراد کو اب ترک سرحدی حکام کی نظروں سے بچ کر ترکی میں داخل ہونے کا چیلنج درپیش ہے۔‘‘

ایچ آر ڈبلیو کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جب شامی مہاجرین پر ترک سرحدی محافظوں کی جانب سے فائرنگ کی جاتی ہے تو اس افراتفری کے عالم میں کئی افراد اپنے عزیز و اقارب اور بچوں سے بچھڑ جاتے ہیں۔ انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم کی جانب سے ترکی کے سرحدی محافظوں پر یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ جب وہ شامی مہاجرین کو سرحد پار کرتے ہوئے پکڑ لیتے ہیں تو ان پر تشدد کرتے ہیں اور انھیں واپس شام کی حدود میں دھکیل دیتے ہیں یا انھیں گرفتار کر لیتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے، ’’ترکی نے کشادہ دلی کے ساتھ لاکھوں شامی مہاجرین کو پناہ دی ہے اور سکیورٹی کے مسائل کے وجہ سے ترکی کو اپنی سرحد پر کنٹرول کرنے کا حق بھی حاصل ہے، تاہم ترکی پناہ کے متلاشی شامی شہریوں کو واپس جنگ زدہ خطے میں نہ دھکیلے۔‘‘

ترکی نے رواں برس مارچ کے مہینے سے شام کے ساتھ اپنی ملکی سرحد مکمل طور پر بند کر رکھی ہے اور صرف ان افراد کو ترکی میں داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے جنہیں فوری طبی امداد درکار ہو۔ اب تک ترکی نے بائیس لاکھ کے قریب شامی تارکین وطن کو پناہ دے رکھی ہے۔

ایچ آر ڈبلیو نے شامی مہاجرین کے ساتھ کی گئی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ حالیہ عرصے میں روس اور شامی حکومت کی جانب سے فضائی حملوں میں اضافے کے باعث شام سے بھاگنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

DW.COM