1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترک روسی کشیدگی انتہا پر: ایردوآن، پوٹن کی طے شدہ سمٹ منسوخ

ترکی کی طرف سے ایک روسی جنگی طیارے کے مار گرائے جانے کے بعد سے ماسکو اور انقرہ کے مابین شدید کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے صدور کے مابین منگل پندرہ دسمبر کے لیے پہلے سے طے شدہ ایک ملاقات منسوخ کر دی گئی ہے۔

G20-Gipfel in Antalya - Putin und Erdogan

نومبر کے وسط میں ترکی میں جی ٹوئنٹی سمٹ کے موقع پر پوٹن اور ایردوآن کی دو طرفہ ملاقات ہوئی تھی

ماسکو سے پیر چودہ دسمبر کے روز ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ترک فضائیہ کی طرف سے ماسکو کے ایک جنگی ہوائی جہاز کے مار گرائے جانے کے بعد سے روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور ان کے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن کے مابین تعلقات مسلسل کشیدہ ہیں اور آج پیر کے روز انقرہ اور ماسکو میں حکام نے یہ تصدیق بھی کر دی کہ دونوں صدور کی منگل 15 دسمبر کے لیے طے شدہ سمٹ اب منسوخ کر دی گئی ہے۔

یہ دوطرفہ سربراہی ملاقات ترکی میں 16 نومبر کو ہونے والی جی ٹوئنٹی سمٹ کے موقع پر طے پائی تھی اور اس کے محض ایک ہی ہفتے بعد ترکی اور شام کے درمیان سرحدی علاقے میں انقرہ کے لڑاکا طیاروں نے ملکی فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزی پر ماسکو کا ایک جنگی ہوائی جہاز مار گرایا تھا۔

اے ایف پی کے مطابق ماسکو میں کریملن کے ترجمان دیمیتری پیسکوف نے 14 دسمبر کے روز صحافیوں کو بتایا، ’’یہ (سربراہی ملاقات) نہیں ہو گی۔ اب ایسا کوئی پلان نہیں ہے۔‘‘ اس سمٹ کی منسوخی کی بعد ازاں انقرہ میں ترک حکام نے بھی تصدیق کر دی۔

گزشتہ ماہ کی 24 تاریخ کو ترکی کی طرف سے روسی جنگی طیارہ مار گرائے جانے کے واقعے میں اس طیارے کا ایک پائلٹ ہلاک ہو گیا تھا اور بعد میں دوسرے پائلٹ کو بچانے کے مشن میں ایک اور روسی فوجی بھی مارا گیا تھا۔ اس کے بعد سے نہ صرف ماسکو اور انقرہ کے مابین شدید کھچاؤ کی صورت حال ہے بلکہ صدر ولادیمیر پوٹن اور صدر رجب طیب ایردوآن بھی مسلسل سخت نوعیت کی بیان بازی میں مصروف ہیں۔

اس واقعے کے بعد ماسکو نے جوابی طور پر ترکی کے خلاف اقصادی پابندیاں بھی عائد کر دی تھیں۔ اس کے علاوہ اسی دوطرفہ کشیدگی کے باعث پہلے روسی صدر پوٹن نے ایک سے زائد مرتبہ ترک صدر کے ساتھ بات کرنے سے اس وقت انکار کر دیا تھا، جب ایردوآن نے پوٹن کو فون کیا تھا۔ پھر فرانس میں ہونے والی اقوام متحدہ کی حالیہ ماحولیاتی کانفرنس کے دوران بھی گزشتہ ماہ کے آخر میں روسی صدر اپنی ان کوششوں میں کامیاب رہے تھے کہ ان کی اپنے ترک ہم منصب کے ساتھ کسی طرح کوئی ملاقات نہ ہونے پائے۔

روس اور ترکی کے باہمی تعلقات اس وقت بھی انتہائی کشیدہ ہیں۔ ابھی کل اتوار 13 دسمبر کے روز ہی روس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس کے ایک جنگی بحری بیڑے کو بحیرہ ایجیئن میں اس لیے تنبیہی فائرنگ کرنا پڑ گئی تھی کہ ترک ماہی گیروں کی ایک کشتی کو اس کے اس روسی بحری بیڑے کے ساتھ ممکنہ ٹکراؤ کے خلاف خبردار کیا جا سکے۔

DW.COM