1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ترک درخواست مسترد، بحیرہء ایجیئن سے نیٹو مشن ختم نہیں ہو گا

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے ترک درخواست کو مسترد کرتے ہوئے بحیرہء ایجیئن میں مہاجرین کے حوالے سے اپنا مشن جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ترکی نے درخواست کی تھی کہ اب اس مشن کو ختم کر دیا جائے۔

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے ذرائع نے جمعے کے روز بتایا ہے کہ بحیرہء ایجیئن میں تعینات نیٹو مشن کے خاتمے کی کوئی حتمی تاریخ فی الحال نہیں دی جا سکتی۔ اس سے قبل ترکی کی جانب سے درخواست کی گئی تھی کہ چوںکہ یہ مشن ’’اپنے اہداف حاصل کر چکا ہے‘ اسے لیے اسے ’’رواں برس کے اختتام پر‘‘ ختم کر دیا جانا چاہیے۔

نیٹو کے ایک اہکار نے اپنا نام مغفی رکھنے کی شرط پر اے ایف پی سے بات چیت میں کہا، ’’بحیرہء ایجیئن میں نیٹو سرگرمی کے خاتمے کی کوئی تاریخ مقرر نہیں ہے۔ مگر نیٹو اپنے اس مشن کے حوالے سے سوچ بچار کا عمل تواتر سے کرتا رہے گا۔‘‘

یہ بات اہم ہے کہ گزشتہ برس بحیرہء ایجیئن ہی کے ذریعے لاکھوں افراد یونان اور پھر بلقان خطے سے ہوتے ہوئے مغربی و شمالی یورپی ممالک پہنچے تھے۔ مہاجرین کے اسی بہاؤ کو روکنے کے لیے رواں برس فروری میں بحیرہء ایجیئن میں نیٹو فورسز تعینات کر دی گئی تھیں۔ اس تعیناتی کی درخواست نیٹو رکن ممالک جرمنی، یونان اور ترکی نے کی تھی۔ اس مشن کے تحت نیٹو ممالک کے متعدد بحری جہاز بحیرہء ایجیئن میں تعینات ہیں، جب کہ اس علاقے کی فضائی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔

Ägäis Ursula von der Leyen besucht Bundeswehrsoldaten in der Ägäis (picture-alliance/dpa/J. Macdougall)

اس مشن کی تعیناتی کی درخواست میں جرمنی بھی شامل تھا

جمعرات کے روز ترک وزیردفاع فکری ایزِک نے مطالبہ کیا تھا کہ اس مشن کو اب ختم کر دیا جانا چاہیے کیوں کہ ’بحیرہ ایجیئن میں اب نیٹو فورسز کی موجودگی کی ضرورت نہیں رہی۔‘‘

انہوں نے یہ بات برسلز میں نیٹو رکن ریاستوں کے وزرائے دفاع سے ایک ملاقات کے بعد کہی تھی۔ ان کا کہنا تھا، ’’یہ ایک عارضی مشن تھا، جو اپنے اہداف حاصل کر چکا ہے۔ اس لیے اس کی تعیناتی میں توسیع کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ترک حکومت مہاجرین کے بہاؤ کو روکنے کے اپنے عزم پر قائم ہے اور اس نے نیٹو سے درخواست کی ہے کہ بحیرہء ایجیئن میں تعینات یہ مشن رواں برس کے اختتام پر ختم کر دیا جائے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ نے اس مشن کے سرگرمیوں کی تعریف کرتے ہوئے اس سے مہاجرین کے بہاؤ میں نمایاں کمی آئی ہے اور حالات میں فرق پیدا ہوا ہے۔