1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترک دارالحکومت میں بم دھماکے: تیس ہلاکتیں، سو سے زائد زخمی

آج ہفتہ دس اکتوبر کی صبح ترک دارالحکومت انقرہ کے وسط میں واقع ایک ٹرین اسٹیشن پر ہونے والے دو دھماکوں میں تیس افراد ہلاک اور سوا سو سے زائد خمی ہو گئے۔

وسطی انقرہ کے اس ریلوے اسٹیشن پر دھماکوں میں زخمی ہونے والے سوا سو سے زائد افراد میں سے متعدد کی حالت نازک ہے۔ یہ دھماکے مقامی وقت کے مطابق صبح دس بجے کے قریب ہوئے۔ ان میں سے ایک دھماکا بہت ہی زوردار تھا۔ یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ انقرہ شہر کے ایک چوراہے میں بھی ایک دھماکا ہوا ہے۔

سرکاری نیوز ایجنسی انادولو نے بعض ذرائع کے حوالے سے ان دھماکوں کو خود کش حملے قرار دیا ہے تاہم ابھی تک اس امر کی باقاعدہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ ایک دوسری ترک نیوز ایجنسی کے مطابق یہ بم دھماکے واضح طور پر دہشت گردانہ کارروائی کا نتیجہ تھے۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ روئٹرز نیوز ایجنسی کے نمائندے نے پندرہ نعشیں کردش پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کے جھنڈوں میں لپٹی ہوئی دیکھیں۔ ان دھماکوں کی ذمہ داری ابھی تک کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے۔

Mindestens 20 Tote bei Explosionen in Ankara

بم دھماکوں کے مقام پر امدادی کارروائیاں شروع ہیں

ترک حکومت کے ترجمان نے ان دھماکوں کو دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ خیال ہے کہ یہ دھماکے خودکش حملے تھے، جن کی غیر سرکاری طور پر چند تفتیشی اہلکاروں نے نام بتائے بغیر تصدیق بھی کی ہے۔ دھماکوں کے بعد کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے وزیر اعظم احمد داؤد اولُو نے سکیورٹی سربراہان کی فوری میٹنگ طلب کر لی ہے۔

یہ دھماکے ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب متعدد امن گروپ اور بائیں بازو کی ترک تنظیمیں ایک امن ریلی کا اہتمام کیے ہوئے تھیں۔ ان دھماکوں کے بعد آج ہی کے لیے اہتمام کردہ یہ ریلی منسوخ کر دی گئی ہے۔ اس ریلی میں کرد باغیوں اور فوج کے درمیان جاری پرتشدد جھڑپوں کی مذمت کی جانا تھی۔ بعض سکیورٹی حکام کا خیال ہے کہ یہ دھماکے اسی امن ریلی کو ٹارگٹ کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ اس ریلی میں کردش پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے کارکن بھی شریک ہونے والے تھے۔ ترک پارلیمنٹ میں اس سیاسی پارٹی کی 80 نشستیں ہیں۔

ترک فوج اور کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کے عسکری ونگ کے درمیان فائر بندی ٹوٹنے کے بعد سے پرتشدد جھڑپیں جاری ہیں۔ رواں برس جولائی میں تقریباً دو برس تک جاری رہنے والی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے اب تک فریقین کے چار سو کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان مسلح واقعات کے بعد ترکی میں سکیورٹی کی صورتحال خراب سے خراب تر ہونے لگی ہے۔

ایردوآن حکومت کو امریکا میں مقیم دینی مبلغ فتح اللہ گُلن کے حامیوں کی شدید مخالفت کا بھی سامنا ہے۔

DW.COM