1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترک حکومت کا اقلیتوں کی املاک واپس کرنے کا اعلان

ترکی کی حکومت اقلیتوں کے ساتھ جذبہ خیر سگالی کا مظاہرہ کرنے کے لیے گزشتہ 75 برسوں میں ان کی ضبط کردہ سینکڑوں املاک واپس کر دے گی۔

default

اس بات کا اعلان ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے اتوار کو استنبول میں ایک افطار عشائیے کے موقع پر کیا، جس میں 150 سے زائد میسحی اور یہودی نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

ہفتے کو شائع ہونے والے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا تھا کہ حکومت وہ املاک واپس کر دے گی، جو کبھی یونانی، آرمینیائی یا یہودی ٹرسٹ کی ملکیت تھیں اور اس دوران فروخت ہونے والی کسی بھی پراپرٹی کا زرِ تلافی بھی ادا کیا جائے گا۔ ان املاک میں سابق ہسپتال، یتیم خانے، اسکول اور قبرستان شامل ہیں۔

ایسی املاک کی واپسی یورپی یونین کا بھی ایک اہم مطالبہ رہا ہے اور یورپی عدالت برائے انسانی حقوق میں اس حوالے سے ترکی کے خلاف درجنوں مقدمات دائر ہیں۔ گزشتہ سال یورپی عدالت نے ترکی کو ایک یتیم خانہ واپس کرنے کا حکم دیا تھا جو ایک یونای آرتھوڈوکس کلیسائی تنظیم کی ملکیت تھا۔

Erdogan vor türkischer Flagge

ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کی اسلام پسند حکومت نے مذہبی اقلیتوں کے مسائل حل کرنے کا عزم کیا ہے

ان میں سے بعض املاک استعمال نہ کیے جانے کی وجہ سے بحقِ سرکار ضبط کی گئی تھیں جبکہ دیگر کو 1974ء میں ترکی میں اس قانون کی منظوری کے بعد ضبط کر لیا گیا تھا کہ غیر مسلم ٹرسٹ 1936ء میں اپنے نام اندراج شدہ املاک کے علاوہ نئی املاک نہیں رکھ سکتے۔ 1974ء کا یہ قانون قبرص کی یونان سے الحاق کی کوششوں کے بعد ترکی کی جزیرہ قبرص پر فوج کشی کے بعد متعارف کرایا گیا تھا۔

وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کی اسلام پسند حکومت مذہبی آزادیوں کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے اور اس نے مذہبی اقلیتوں کے مسائل حل کرنے کا عزم کیا ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران اس نے ان میں سے بعض املاک کی واپسی کی اجازت کے لیے قوانین میں ترامیم کیں، مگر پابندیاں پھر بھی موجود تھیں اور تیسرے فریقوں کو فروخت کردہ املاک کا مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ حکومت کا حالیہ اعلان ان پابندیوں کو ہٹانے اور عدالتوں میں مزید مقدمات کے دائر کیے جانے کو رکوانے کی کوشش ہے۔

اقلیتی امور کے ماہر انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اور وکیل اورہان کمال چنگیز کا کہنا ہے، ’’یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کا ترکی پر سخت دباؤ تھا، تاہم اس کے باوجود یہ ایک بہت اہم پیشرفت ہے۔‘‘

Türkei Religion Alewiten in Istanbul

ترکی کی حکومت اقلیتوں کے ساتھ جذبہ خیر سگالی کا مظاہرہ کرنے کے لیے گزشتہ 75 برسوں میں ان کی ضبط کردہ سینکڑوں املاک واپس کر دے گی

املاک کی واپسی اور زر تلافی کی ادائیگی سے اقلیتوں کو مالی استحکام حاصل ہو گا اور ان کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا ہوں گی۔ ترکی کی آبادی 7 کروڑ 40 لاکھ افراد پر مشتمل ہے جن میں سے بیشتر مسلمان ہیں۔ ترکی کی بڑی اقلیتوں میں 65 ہزار آرمینیائی آرتھو ڈوکس مسیحی، 23 ہزار یہودی اور 2500 کے قریب یونانی آرتھو ڈوکس مسیحی باشندے شامل ہیں۔

مذہبی اقلیتوں نے اکثر ترکی میں اپنے ساتھ امتیازی رویے کی شکایت کی ہے۔ ترکی کی یونانی اور آرمینیائی قومیتوں سے تنازعے کی طویل تاریخ رہی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ترک حکام نے گزشتہ صدی میں ان کی نسل کشی کی کوششیں کی تھیں۔ ترکی کا کہنا ہے کہ اس وقت ہونے والا قتل عام نسل کشی کی منظم کوشش کی بجائے محض جنگی افراتفری کا نتیجہ تھا۔ اس کے علاوہ ترکی پر ایک مذہبی مدرسے کو کھولنے کے لیے بھی سخت دباؤ ہے جس میں یونانی آرتھوڈوکس کلیسا کی مذہبی شخصیات کو تربیت دی جاتی تھی۔ یہ مدرسہ 1971ء میں منظور کردہ ایک قانون کے تحت بند کر دیا گیا تھا، جس کے تحت مذہبی اور فوجی تربیت ریاستی کنٹرول میں چلی گئی تھی۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت:  مقبول ملک

DW.COM