1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترک برسر اقتدار سیاسی جماعت پابندی سے بچ گئی

ترکی کی آئینی عدالت نے اپنے ایک اہم فیصلے میں ملک کی حکمران سیاسی جماعت، اے کے پی پر پابندی عائد نہیں کی تاہم اس پر جرمانہ عائد کیا گیا۔ حکمران جماعت نے اس فیصلے کو اپنی فتح سے تعبیر کیا ہے۔

default

مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کے گرد سخت سیکورٹی انتظامات کئے گئے تھے

ترکی کی اعلی عدالت نے برسر اقتدار جماعت، اے کی پی کے خلاف ملک کی سیکولر بنیادوں، ڈھانچے اور نظام کو زخ پہنچانے کے سلسلے میں دائر مقدمے کو خارج کر دیا ہے۔ مزکورہ مقدمے میں یہ درخواست کی گئی تھی کہ اے کے پر پابندی عائد کی جائے تاہم آئینی عدالت نے اس کیس کی سماعت کے بعد پارٹی پر صرف مالی جرمانہ عائد کیا۔

گیارہ ججوں پر مشتمل اس کیس کی سماعت کرنے والے پینچ میں سے چھ نے پابندی کے حق میں ووٹ دیا جبکہ پانچ نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ اگر مزید ایک جج پابندی کے حق میں ووٹ دے دیتا تو برسر اقتدار جماعت پر مکمل پابندی عائد ہو سکتی تھی۔

ملک کے سیکولر حلقوں نے برسر اقتدار جماعت پر الزام لگایا تھا کہ اے کے پی ملک کے سیکولر تشخص کو ختم کر کے اسلامی نظام کے نفاذ کا ارادہ رکھتی ہے اور اس لئے اس جماعت کی اعلی قیادت پر سیاست میں حصہ لینے پر پانچ سال تک کی پابندی عائد کی جانی چاہئیے۔

DW.COM