1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترک اسرائیل تناؤ

ترکی نے اسرائیل پر واضح کردیا ہے کہ جب تک وہ غزہ پٹی میں انسانی المیئے کو ختم نہیں کرتا، دو طرفہ تعلقات معمول پر نہیں آسکتے۔

default

عالمی اقتصادی فورم میں شریک ترک وزیر اعظم اور اسرائیلی صدر : فائل فوٹو

ترک وزیرخارجہ احمد داود اوگلو نے گزشتہ دنوں انقرہ میں صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ جب تک فلسطینی ظلم کا شکار ہوتے رہیں گے اور مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لئے بات چیت کا سلسلہ شروع نہیں ہوجاتا، ترکی کے اسرائیل سے روابط معمول پر نہیں آسکتے۔

ترک وزیر خارجہ کے الفاظ تھے، ''گزشتہ `آٹھ مہینوں میں غزہ پٹی سے اسرائیل پر ایک راکٹ بھی فائر نہیں کیا گیا تاہم پھر بھی وہاں فلسطینی بچے اسکول سے محروم ہیں اور لوگوں کے پاس سر چھپانے کو ٹھکانہ نہیں''۔

Türkischer Außenminister Ahmet Davutoglu

ترک وزیر خارجہ احمد داود اوگلو : فائل فوٹو

انہوں نے اس تاثر کو غلط قراردیا کہ امن مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کی شرط رکھ کر ترکی شدت پسندوں کی حمایت کررہا ہے۔

احمد داود کے بقول اسرائیل نے پچھلے سال دسمبر میں غزہ پر حملہ کرکے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے امکانات ختم کردئے تھے۔ انہوں نے شام کے ساتھ بھی اسرائیل کا مذاکراتی سلسلہ ختم ہونے پر افسوس ظاہر کرتے ہوے کہا کہ اس سلسلے میں ترکی کی ثالثی کا احترام نہیں کیا گیا۔

ترک وزیرخارجہ کے اس بیان کو دونوں ممالک کے درمیان جاری تیزی سے بگڑتے تعلقات کے تناظر میں اہم خیال کیا گیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی ویزاعظم بینجمن نیتن یاہونے کہا تھا کہ انہیں انقرہ حکومت کی تبدیل ہوتی پالیسیوں پر تشویش ہے۔ ترک ٹی وی پر غزہ جنگ کے حوالےسے اسرائیلی فوج کے مظالم کی تصویر کشی پر اسرائیل میں ترک سفیر کی بھی دفتر خارجہ طلبی ہوئی تھی۔

Ministerpräsidenten Benjamin Netanjahu bei Koalitionsverhandlungen in Tel Aviv

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو : فائل فوٹو

نائب اسرائیلی وزیر اعظم سیلوان شیلوم نے ترکی کے ساتھ کشیدہ ہوتے تعلقات کو’’مایوس کن‘‘ قرار دیتے ہوئے ترکی پر زور دیا کہ وہ سمجھ بوجھ سے کام لے۔ انکے بقول دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی مناسب نہیں اور اسرائیل کے ساتھ بہتر تعلقات خود ترکی کے حق میں بہتر ہیں۔

اسرائیلی حکام ترکی کے اس فیصلے سے سخت ناراض نظر آرہے ہیں جس کے تحت اس نے ترکی میں ہونے والی ’جوائنٹ ملٹری ڈرل‘ یعنی مشترکہ فوجی مشق میں اسرائیل کی شرکت پر اعتراض کیا تھا۔ اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک نے تاہم کہا کہ مشترکہ فوجی مشق کو منسوخ نہیں بلکہ موخر کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب ترک وزارت خارجہ نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ ایک فوجی مشق کے ملتوی کردیئے جانے پرسیاسی نتائج اخذ نہیں کرنے چاہیں۔ ترکی نے اس سلسلے میں اسرائیلی حکام کے بیانات کو ناقابل قبول قراردیا ہے۔

Israelische Luftwaffe greift weiter Ziele im Gazastreifen an

غزہ پر اسرائیلی بمباری سے ہلاک ہونے والوں میں بچوں کی بڑی تعاد شامل ہے

واضح رہے کہ ترکی کا شمار اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات رکھنے والے گنے چنے مسلمان ممالک میں ہوتا ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان سن 1996ء میں فوجی تعاون کے حوالے سے ایک معاہدہ طے پایا تھا تاہم گزشتہ سال کے اواخر میں اسرائیل کی طرف سے غزہ سٹی پر زمینی اور فضائی حملوں کے بعد ترک حکام نے فلسطین سے متعلق اسرائیلی پالیسی پرشدید نکتہ چینی کی تھی۔ ترکی کی طرف سے اسرائیلی فوج پر کڑی تنقید کے بعد اسرائیل اور شام کے باہمی تعلقات کے حوالے سے مئی 2008ء سے جاری ترکی کی بلا واسطہ ثالثی کی کوششوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔

اسی دوران ترکی اور شام نے باہمی تعلقات اور تعاون کو فروغ دینے کے لئے ایک کونسل قائم کی ہے جس پر اسرائیل کو اعتراض ہے۔