1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترک اساتذہ کے حکومت پاکستان سے شکوے

پاک ترک ایجوکشن فاؤنڈیشن کے زیرِ انتظام چلنے والے پاک ترک انڑنیشنل اسکولز اینڈ کالجزکے ملازمین کی پاکستان میں قیام کی آخری امیدیں آج اُس وقت دم توڑ گئیں جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی وزارت داخلہ کے حق میں فیصلہ دیا۔

Türkische Lehrerinnen der Pak Turk School in Islamabad (DW/A. Sattar)

اسلام آباد میں اسکول کی وائس پرنسپل لیلیٰ انور (دائیں) اور ترک زبان کی تعلیم دینے والی استاد شکرن

تاہم عدالت کے حکم کی وجہ سے اب یہ ملازمین، جن میں ایک بڑی تعداد اساتذہ کی ہے، تیس نومبر تک پاکستان میں قیام کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے گزشتہ دنوں اِن اساتذہ کو بیس نومبر تک ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ ڈوئچے ویلے کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں اِن اساتذہ نے اُن مشکلات کا تفصیل سے ذکر کیا، جن کا اُنہیں اِس فیصلے کی وجہ سے سامنا ہے۔ ترکی سے تعلق رکھنے والی اسکول کی وائس پرنسپل لیلیٰ انور نے ڈی ڈبلیوکو بتایا، ’’ہمارے پاسپورٹ روک لئے گئے ہیں۔ ہمارے سفری کاغذات پورے نہیں ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کے ہم کس ملک جا سکتے ہیں۔ اگر ہم ترکی جاتے ہیں تو ہمیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ میرے خیال میں ہم صرف کسی ایسے ہی ملک جا سکتے ہیں، جہاں پاسپورٹ اور ویزے کی کوئی پابندی نہ ہو۔ میرے والدین بہت بوڑھے ہیں اور میں بتا نہیں سکتی کہ اس وقت اُن کی کیا کیفیت ہے۔ ہم لوگ بھی یہاں نفسیاتی عذاب میں مبتلا ہیں۔ یہاں کئی خواتین حاملہ ہیں اور سفر بھی نہیں کر سکتیں لیکن پھر بھی اُن کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بچے ایک دوسرے سے لپٹ لپٹ کر رو رہے ہیں۔ ہمارے شاگرد بھی غمزدہ ہیں۔‘‘

فتح اللہ گولن سے تعلق کے سوال پر انہوں نے کہا، ’’ہم یہاں بچوں کو ریاضی، کیمیاء، ترکی کی زبان، طبعیات، انگریزی اور دوسرے کئی مضامین پڑھاتے ہیں۔ بچوں کی اخلاقی تربیت کرتے ہیں۔ آپ یہاں کسی بھی طالبِ علم سے پوچھ لیں کہ کیا ہم نے کبھی اُن کو گولن کے بارے میں کچھ بتایا۔ وہ تو شاید ان کا نام بھی نہ جانتے ہوں۔ یہ صرف ایک تعلیمی ادارہ ہے، جو پاکستانی قانون کے مطابق رجسڑڈ ہے۔ اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘
اسکول میں ترکی زبان پڑھانے والی شکرن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’میں نے اپنی زندگی کے گیارہ سال پاکستان میں گزارے ہیں۔ یہا ں کے بچوں، ملازمین اور عوام کو بھولنا ہمارے لئے مشکل ہی نہیں بلکہ نہ ممکن ہے۔‘‘

اسکول کے ایک انتہائی اہم اسٹاف ممبر نے نام نہ بتانے کی شرط پر ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ملتان میں پاکستانی پولیس کے ساتھ ایک ترکی پولیس کا رکن آیا، جس نے ہمارے ارکان سے ملک چھوڑنے کے حوالے سے سوالات کئے۔ ہم نے عدالت سے استدعا کی ہے ہمیں کم از کم تعلیمی سال مکمل کرنے دیں لیکن ہماری درخواست کو مسترد کر دیا گیا۔ مجھے بتائیں اس کی تکمیل کے بغیر انہیں کسی دوسرے تعلیمی ادارے میں داخلہ لینے میں کتنی دشواری ہوگی۔ ترکی میں ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور اگر ہم وہاں جائیں گے تو جیل ہی ہمارا مقدر بنے گی۔ ترکی میں اِس وقت کسی خاص بینک کا کارڈ رکھنے پر بھی لوگوں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ تو ہم پر تو وہ الزام پہلے ہی لگا چکے ہیں۔‘‘

حکومت ترک اساتذہ کو ملک بدر نہ کرے، مظاہرین

اس سوال پر کہ یہ لوگ اب کہاں جارہے ہیں ، اس اسٹاف رکن نے کہا، ’’تقریبا بچوں کو ملا کر مجموعی طور پر چار سو کے قریب افراد ہیں۔ کچھ ان میں سے جرمنی، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک جارہے ہیں۔ کچھ ابھی تک مختلف ممالک میں اپنے رشتے داروں سے رابطے کر رہیں۔ جب کہ کچھ بالکل پریشان ہیں اور انہیں سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ کیا کریں۔ عدالت نے صرف زبانی حکم دیا ہے کہ تیس نومبر تک آپ رک سکتے ہیں۔ وزارتِ داخلہ نے بھی تیس نومبر تک قیام کرنے کا کوئی تحریری حکم نہیں دیا۔ ترکی کا سفارت خانہ پاسپورٹ دینے میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے اور ایسے سفری کاغذات دینے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے ذریعے ہم ترکی کے علاوہ کہیں اور نہیں جا سکتے۔‘‘

تعلیمی اداروں کے مستقبل کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا، ’’ترکی کی حکومت اِن تعلیمی اداروں کو ’ معارف‘ نامی ایک تنظیم کو دینا چاہتی ہے، جس کو مالی امداد سعودی عرب سے ملتی ہے۔ اس تنظیم کو حال ہی میں بنایا گیا ہے اور اِس کا تعلق اسلامی انتہا پسند تنظیموں سے ہوسکتا ہے۔ اب یہ بات واضح ہے کہ اگر ایسی کسی تنظیم کو ایردوآن یہ تعلیمی ادارے سپرد کرتا ہے تو اُس کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اور یہ تعلیمی ادارے اس فیصلے سے کس طرح متاثر ہوں گے۔‘‘
انہوں نے اِس تاثر کو غلط قرار دیا کہ ترکی پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، ’’پاکستان میں اصل سرمایہ کاری یہ تعلیمی ادارے ہیں، جس کو ایردوآن ختم کرنا چاہتا ہے۔ ترکی کی حکومت نے کونسی سے یہاں سرمایہ کاری کی ہے، وہ تو میڑو اور دوسرے پروجیکٹس کے ذریعے یہاں سے پیسے کما رہے ہیں۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’پہلے ہم نے پنجاب اور وفاقی حکومت دونوں سے پوچھا تھا کہ کیا ہم ملک چھوڑ کر چلے جائیں لیکن کہا گیا نہیں پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے اور پھر اچانک ہمیں ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ ہمارے ادارے نے لاہور اور خیر پور میں ہونے والے امتحانات میں پوزیشنیں لیں۔ ہم نے تعلیم کے شعبے میں خدمات انجام دیں اوراُس کا صلہ ہمیں یہ ملا۔‘‘

DW.COM