1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی: 103 جنرل اور ایڈمرل گرفتار

ترکی میں جمعہ 15 جولائی کی شب ناکام فوجی بغاوت کے بعد ملکی حکومت کی طرف سے فوج، پولیس اور عدلیہ کے ارکان کی گرفتاریوں کے علاوہ دیگر سخت اقدامات مسلسل جاری ہیں۔ وہاں ہونے والی تازہ پیشرفت پر ایک نظر۔

اعلیٰ فوجی قیادت کی گرفتاریاں

ترک میڈیا کے مطابق صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے خاتمے کے لیے کی جانے والی ناکام بغاوت کے تناظر میں فوجی اہلکاروں کی جو بڑے پیمانے گرفتاریاں ہوئی ہیں۔ ان میں 103 جنرل اور ایڈمرل عہدے کے اعلیٰ اہلکار بھی شامل ہیں۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق اب ان اعلیٰ فوجی اہلکاروں کو عدالت لے جایا جا رہا ہے تاکہ دوران حراست ان کے خلاف ریمانڈ حاصل کیا جا سکے۔

کویت میں ترکی کے ملٹری اتاشی، سعودی عرب میں گرفتار

سعوی حکام نے ترکی کے کویت کے لیے ملٹری اتاشی کو حراست میں لے لیا ہے۔ سعودی میڈیا کے مطابق اس سفارتکار کو سعودی عرب کے مشرقی شہر دمام کے ایئر پورٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا، جب وہ جرمن شہر ڈسلڈورف کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ رپورٹوں کے مطابق میکائیل گولو کو ترک حکام کی درخواست پر گرفتار کیا گیا۔ گولو کو ترکی میں ہونے والی ناکام بغاوت کے تناظر میں گرفتار کیا گیا ہے۔ وہ کویت سے بذریعہ سڑک سعودی عرب پہنچے تھے۔

8,000 پولیس اہلکار برطرف

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دارالحکومت انقرہ اور استنبول سمیت ملک بھر سے آٹھ ہزار پولیس اہلکاروں کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ ایک سینیئر سکیورٹی اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ ان اہلکاروں کی برطرفی ناکام فوجی بغاوت کے تناظر میں کی گئی ہے۔

آپریشن کلین اپ جاری رہے گا، ایردوآن

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے عہد کیا اظہار کیا ہے کہ سرکاری اداروں میں ’آپریشن کلین اپ‘ جاری رہے گا۔ جمعے کی رات رونما ہونے والے پرتشدد واقعات کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے متعدد افراد کی اتوار 17 جولائی کو ادا کی جانے والی آخری رسومات کے موقع پر ایردوآن نے کہا کہ سازشی عناصر کو فرار کا موقع نہیں ملے گا۔ ترک صدر کے بقول ’کینسر پھیل چکا ہے‘ لیکن جوابی کارروائی میں اس کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے اس ناکام فوجی بغاوت کے لیے امریکا میں مقیم ترک مذہبی رہنما فتح اللہ گؤلن کو قصوروار قرار دیا ہے۔

ترک عوام اور سیاسی جماعتوں کا کردار قابل تعریف ہے

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے ترکی میں فوجی بغاوت کو ناکام بنانے پر عوام کے کردار کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترک عوام نے جمہوریت برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ جرمن اخبار ’بلٹ ام زونٹاگ‘ کو دیے گئے انٹرویو میں شٹائن مائر کا کہنا تھا کہ ترک عوام اور سیاسی پارٹیوں نے اس مشکل وقت میں انتہائی بُردباری سے اپنا ردعمل ظاہر کیا، جو قابل تعریف ہے۔ جمعے کی شب ترکی میں فوجی بغاوت کی کوشش ناکام بنا دی گئی تھی۔

قانون کی بالادستی اور جمہوری اقدار کا احترام کیا جائے، موگرینی

یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیدریکا موگرینی نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ آج ایک ’سخت پیغام‘ بھیجیں گے کہ ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے ردعمل میں کیے جانے والے اقدامات میں قانون کی بالادستی جمہوری نظام کے قواعد و ضوابط کا لازمی طور پر احترام کی جائے۔

موگرینی اس یورپی بلاک کے وزرائے خارجہ کی برسلز میں ہونے والی ملاقات سے قبل میڈیا سے گفتگو کر رہی تھیں۔ بیلجیئم کے وزیر خزانہ دیدیئر رائندرس نے کہا ہے کہ ترک حکام کی طرف سے ناکام فوجی بغاوت کا ردعمل متناسب ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی میں ججوں کی گرفتاریوں اور سزائے موت کی بحالی کے مطالبات پر ان کے تحفظات ہیں۔