1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ترکی: یونان جانے کی کوشش کرنے والے 1300 تارکین وطن گرفتار

ترکی اور یورپی یونین کے مابین پناہ گزینوں کو یورپ جانے سے روکنے کا معاہدہ طے پانے کے گھنٹوں بعد ہی ترکی نے اپنے ساحلوں پر چھاپے مارتے ہوئے تقریباﹰ تیرہ سو مہاجرین اور تین انسانی اسمگلروں کو گرفتار کر لیا ہے۔

انقرہ سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق یہ مہاجرین کشتیوں کے ذریعے بحیرہ ایجیئن عبور کر کے یونان جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ چھاپوں کے دوران تارکین وطن کے علاوہ انسانوں کی اسمگلنگ میں ملوث تین افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جب کہ سمندری سفر کے لیے استعمال کی جانے والی کئی کشتیوں کو بھی قبضے میں لے لیا گیا۔ ترک حکام کے مطابق گرفتار ہونے والے پناہ گزینوں کی اکثریت کا تعلق شام، عراق، ایران اور افغانستان سے ہے۔

حالیہ مہینوں میں ترکی کی جانب سے تارکین وطن کو یورپ جانے سے روکنے کے لیے اب تک کی جانے والی اپنی نوعیت کی یہ سب سے بڑی کارروائی ہے۔ پناہ گزینوں کو گرفتاری کے بعد ترکی میں موجود مختلف ’ملک بدری کے مراکز‘ میں بھیج دیا گیا جہاں سے پناہ کے متلاشی ان افراد کو اپنے آبائی وطنوں کی جانب بھیج دیا جائے گا۔

ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق آج علی الصبح ترکی کے ساحلی شہر آیواجیک میں مارے جانے والے چھاپوں میں 750 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ مبینہ طور پر یہ تمام افراد کشتیوں کے ذریعے یونان جانے کی تیاری میں تھے۔ ترک سیکورٹی اہلکاروں نے چھاپوں کا سلسلہ آج دوپہر بھی جاری رکھا۔ ترک ساحلوں پر موجود جنگلات میں مارے جانے والے چھاپوں کے دوران مزید 550 تارکین وطن کو گرفتار کر لیا گیا۔

خبررساں ایجنسی انادولو نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان چھاپوں کے دوران ترک سیکورٹی اہلکاروں کو ایک ایسے تارک وطن کی لاش بھی ملی ہے جو مبینہ طور پر یونان جانے کی کوشش میں سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا تھا۔

یورپ میں جاری مہاجرین کے حالیہ بحران کے دوران سب سے زیادہ تارکین وطن آیواجیک شہر سے ہی یونانی جزیرے لیسبوس پہنچے ہیں۔ بحیرہ ایجیئن کے ذریعے یونان پہنچنے کا یہ سب سے مختصر راستہ ہے اور اسی وجہ سے یہ راستہ مہاجرین میں مقبول بھی ہے۔ تاہم اس کوشش میں بچوں اور عورتوں سمیت سینکڑوں افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

Griechenland Kos Flüchtlinge Familie

ترکی سے یونان پہنچنے کی کوشش میں اب تک عورتوں اور بچوں سمیت سینکڑوں تارکین وطن بحیرہ ایجیئن میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔

شام میں جاری خانہ جنگی کے ہاتھوں مجبور ہو کر رواں برس پانچ لاکھ سے زیادہ شامی شہری ترکی کے راستے یونان اور بعد ازاں جرمنی اور دیگر مغربی یورپی ممالک پہنچ چکے ہیں۔ ترکی میں اب بھی بائیس لاکھ کے قریب شامی تارکین وطن پناہ لیے ہوئے ہیں۔

ترکی اور یورپی یونین کے مابین اتوار کے روز ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے مطابق ترکی اپنے ساحلوں کی نگرانی سخت کر کے تارکین وطن کو یورپ کی جانب ہجرت کرنے سے روکے گا۔

یورپی یونین اس کے بدلے میں ترکی کو تین بلین یورو کا امدادی پیکج دینے کے علاوہ ترک شہریوں کے لیے ویزے کے بغیر یورپ سفر کرنے کی اجازت اور ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے لیے مذاکرات بھی دوبارہ شروع کرے گی۔

DW.COM