1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ترکی یورپی فٹبال مقابلوں کی میزبانی سے پھر محروم

یورپی فٹبال ایسوسی ایشن UEFA نے2016ء کے یورو کپ کے مقابلوں کی میزبانی کا اعزاز فرانس کے حوالے کر دیا ہے۔ اٹلی اور ترکی بھی میزبانی کے حصول کی دوڑ میں شامل تھے۔

default

فرانس اس سے قبل بھی 1960ء اور 1984ء میں اس نوعیت کے مقابلوں کی میزبانی کرچکا ہے۔ یورپی فٹبال کی اعلیٰ انتظامی کمیٹی میں فرانس کی میزبانی کے حق میں کل تیرہ میں سے سات رکن ممالک نے ووٹ دئے۔ ترکی کو چھ ووٹ ملے۔ فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے بھی یورپی کپ کے مقابلوں کی میزبانی کا اعزاز ملنے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

ترکی کے لئے یہ تیسرا بدقسمت موقع تھا، جب اسے یورو کپ کی میزبانی نہ مل سکی۔

پیرس 2012ء کے اولمپک مقابلوں کی بھی میزبانی کرنا چاہتا تھا تاہم اسے لندن کے مقابلے میں شکست ہوئی۔ فرانسیسی صدر کے بقول : ’’ میں بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ ہم ان مقابلوں کا انتظام سنبھالنے پر بہت ہی زیادہ خوش ہیں، یورپ کی تمام چوبیس ٹیموں کا فرانس میں زبردست استقبال کیا جائے گا‘‘۔ فرینچ فٹبال فیڈریشن کے صدر Jean-Pierre Escalettes نے اٹلی اور ترکی سے ہمدردی جتاتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی مایوسی کو سمجھ سکتے ہیں۔

Flash-Galerie Frankreich EM 2016

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے بھی یورپی کپ کے مقابلوں کی میزبانی کا اعزاز ملنے پر خوشی کا اظہار کیا ہے

جمعہ کا یہ فیصلہ فرانسیسی شائقین فٹبال کے لئے لمبے عرصے بعد ایک خوشگوار ہوا کا جھونکا ثابت ہوا ہے۔ یاد رہے کہ فرانسیسی کھلاڑی تھیری ہنری کے متازعہ گول نے ورلڈ کپ میں ان کی رسائی تو ممکن کر دی ہے، مگر ہر سمت سے ان پر تنقید کا سلسلہ ابھی تک رکا نہیں۔ ہنری نے آئرلینڈ کے خلاف کوالیفائنگ مقابلے میں ہاتھ کے ذریعے گیند کو روکا تھا اور پھر گول کیا تھا۔

2008ء میں ترکی کے مقابلے میں سوئٹزرلینڈ کو یہ میزبانی دی گئی تھی ۔2012ء کے لئے اس کپ کی میزبانی کا اعزاز آسٹریا کو دیا گیا ہے۔ فرانسیسی حکومت نے یورو کپ کی میزبانی کے لئے ایک سو پچاس ملین یورو کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے۔ اس رقم سے فٹبال کے میدانوں کی تعمیرنو کی جائے گی۔ آسٹریا میں کھیلے جانے والے یورو کپ میں سولہ جبکہ فرانس میں کھیلے جانے والے یورو کپ میں خطے کی چوبیس سرفہرست ٹیمیں حصہ لیں گی۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM