1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی کے لیے جاسوسی نہیں کی، ترک مسلمانوں کی تنظیم کا اصرار

جرمنی میں ترک مسلمانوں کی ایک بڑی تنظیم Ditib نے گولن تحریک کے حامیوں کی جاسوسی کے الزامات کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اُس کی 970 مساجد کو کبھی اس تحریک کے حامیوں کی فہرستیں مرتب کرنے کی ہدایات نہیں ملیں۔

’مذہبی امور کی ترک اسلامی یونین‘ یا Ditib کا ہیڈکوارٹر جرمن شہر کولون میں ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ کئی عشروں سے جرمنی میں اس تنظیم کے زیر انتظام چلنے والی مساجد کے مبلغین یا امام ترکی میں تربیت پاتے رہے ہیں اور اپنی تنخواہیں ’دیانت‘ (مذہبی امور کی پریذیڈیم) سے وصول کرتے رہے ہیں، جو ترک وزیر اعظم کے دفتر سے جڑی ہوتی ہے۔

Ditib کا اصرار ہے کہ اُس کے کسی سیاسی جماعت سے تعلقات نہیں ہیں اور اُس کے مرکزی دفتر یا اُس کی جرمنی بھر میں پھیلی ہوئی شاخوں میں سے بھی کسی کو ایسی کوئی ہدایات نہیں ملیں کہ وہ امریکا میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے مبلغ فتح اللہ گولن کی تحریک ’حزمت‘ (خدمت) کے حامیوں کی جاسوسی کریں۔

Ditib کے مطابق اُلٹا تمام مساجد کو یہ واضح ہدایات روانہ کی گئیں کہ ہماری مساجد کے دروازے ہر ایک کے لیے کھلے ہیں اور یہ کہ ہماری مساجد روحانیت کی جگہ ہیں، نہ کہ سیاسی بیان بازی کی۔ واضح رہے کہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے خیال میں اس سال پندرہ جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے پیچھے فتح اللہ گولن اور اُن کی تحریک کا ہاتھ تھا۔ گولن اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ ایردوآن امریکا سے گولن کی ترکی کو حوالگی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور جرمنی پر یہ الزام لگا رہے ہیں کہ وہ ’دہشت گرد گروپوں‘ کو پناہ دے رہا ہے۔

Ali Toprak (privat)

جرمنی میں کُرد کمیونٹی کے چیئرمین علی ایرتان توپراک

ایردوآن کے ناقدین میں شمار ہونے والے ترک روزنامے ’جمہوریت‘ کے مطابق ’دیانت‘ کی جانب سے تمام غیر ملکی ترک مشنوں کو ایک خط روانہ کیا گیا اور ’مفصل رپورٹیں‘ مرتب کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ ’جمہوریت‘ کے مطابق اُس کے پاس گولن کے حامیوں کی ایسی فہرستیں ہیں، جو Ditib سے جڑے مبلغین نے مرتب کی ہیں۔  یہ خبریں بھی ہیں کہ Ditib کی مساجد میں گولن کے حامیوں کو نہیں جانے دیا جا رہا۔

جرمنی میں کُرد کمیونٹی کے چیئرمین علی ایرتان توپراک کے مطابق ’جرمنی میں Ditib  کی مساجد میں تعینات امام ترک سول سرونٹس ہیں اور اُنہیں غیر ممالک میں مقیم ترک کمیونٹیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ انقرہ حکومت کی ہدایات پر عمل نہ کرنے والے اماموں کو ملازمت سے ہاتھ دھونا بھی پڑ سکتے ہیں۔ ایسے میں متعدد اماموں نے ملازمتیں چھوڑ کر جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دے دی ہیں۔

جرمن روزنامے ’دی ویلٹ‘ نے اس سال اگست میں بتایا تھا کہ یورپ بھر میں آٹھ سو اور جرمنی میں چھ ہزار مخبر انقرہ حکومت کے لیے کام کرتے ہیں۔