1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی کے شہر غازی انتیپ میں پولیس ہیڈ کوارٹر زکے باہر دھماکا

ترکی کے جنوبی علاقے میں بم دھماکے اور راکٹ حملے کے دو مختلف واقعات میں چار افراد ہلاک جب کہ کم از کم ستائیس افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی ترک دارالحکومت انقرہ سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق شامی سرحد کے قریب واقع ترک شہر غازی انتیپ میں پولیس ہیڈ کوارٹر زکے باہر ہونے والے دھماکے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک جب کہ تیرہ دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔

غازی انتیپ کے صوبائی گورنر کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں نو پولیس اہلکار اور چار سویلین شامل ہیں۔ ترک میڈیا کے مطابق بظاہر یہ ایک کار بم دھماکا تھا۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق دھماکے کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔

ترکی کے مقامی ٹی وی پر نشر کی جانے والی فوٹیج میں ایسے مناظر دیکھے گئے جن میں دھماکے کے بعد افراتفری پھیلتی نظر آئی اور زخمی ہونے والے افراد سڑکوں پر پڑے ہوئے دکھائی دے رہےتھے۔ وقوعہ پر فوری طور پر ایمبولینسیں اور دیگر امدادی ادارے پہچ گئے اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

شامی شہر حلب سے محض ساٹھ کلو میٹر کی دوری پر واقع غازی انتیپ کی آبادی پندرہ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ غازی انتیپ کا شمار جنوبی ترکی کے اہم اور بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔ اس شہر میں بڑی تعداد میں شامی مہاجرین کو پناہ دی گئی ہے اور حال ہی میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے بھی اسی شہر میں قائم تارکین وطن کے ایک کیمپ کا دورہ بھی کیا تھا۔

انقرہ حکام نے پہلے ہی سے آج ملک بھر میں مزدوروں کے عالمی دن کے حوالے سے سکیورٹی بڑھا رکھی ہے۔ ترکی میں یکم مئی کی مناسبت سے جلسے جلوسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے اور عام طور پر اس روز پولیس اور مظاہرین کے مابین جھڑپیں بھی ہوتی ہیں۔

Türkei Gaziantep Anschlag

حالیہ دنوں کے دوران ترکی میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے

ماردن میں فوجی آپریشن

قبل ازیں جنوب مشرقی شہر ماردن میں کرد ملیشیا کے خلاف جاری فوجی آپریشن کے دوران کردوں کی جانب سے کیے گئے راکٹ حملے کے نتیجے میں ترکی کے تین فوجی ہلاک ہو گئے۔ اس حملے میں 14 دیگر کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

ترک فوج کے ذرائع کے مطابق اس حملے میں دو راکٹ داغے گئے۔ یہ حملہ ترکی کے جنوب مشرق میں شامی سرحد کے قریب کیا گیا۔ اس علاقے میں ترکی نے فوجی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ ترکی کا جنوب مغربی علاقہ زیادہ تر کرد آبادی پر مشتمل ہے۔ اس علاقے میں کردستان ورکز پارٹی اور حکومتی افواج کے مابین تصادم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

DW.COM