1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ترکی کے ساتھ ڈیل ’سراب‘ ہے، ہنگری

ہنگری کے وزیراعظم وکٹور اوربان نے کہا ہے کہ مہاجرین کے بہاؤ کو روکنے کے لیے ترکی کے لیے سرمایے اور دیگر مراعات کا وعدہ یورپی یونین کے لیے صرف ایک ’سراب‘ ہے۔

جمعرات کو اوربان نے جرمن اخبار بلڈ سے بات چیت میں کہا، ’’ہم ترک صدر ایردوآن سے بھیک مانگ رہے ہیں کہ وہ ہم سے پیسے لے لیں، مراعات لے لیں اور ہماری سرحدوں کی حفاظت کریں، کیوں کہ ہم خود اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنے سے قاصر ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’اس سے یورپ کا مستقبل اور سلامتی کو ترکی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔‘‘

یورپی ممالک نے رواں ماہ ترکی کے لیے تین ارب یورو سرمایے کی فراہمی کی منظوری دی ہے، تاکہ انقرہ حکومت اپنے ہاں موجود مہاجرین کی حالت بہتر بنائے جب کہ یورپی یونین کی جانب سے ترکی کو بلاک کی رکنیت کے مذاکرات کی بحالی اور دیگر مراعات دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ یورپی یونین کی کوشش ہے کہ ترکی میں مہاجرین کی حالت بہتر بنا کر یورپ میں داخل ہونے والے مہاجرین کے بہاؤ میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

Europäische Volkspartei Madrid Angela Merkel und Viktor Orban

اوربان مہاجرین کے حوالے سے میرکل کی پالیسی کے بڑے ناقد ہیں

یورپی یونین کی جانب سے یہ اقدام گزشتہ برس ایک ملین سے زائد مہاجرین کی یورپ آمد کے تناظر میں کیا گیا ہے، جب کہ مہاجرین کا بہاؤ کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ یورپ میں داخل ہونے والے مہاجرین کی زیادہ تر تعداد کا تعلق مشرق وسطیٰ کے ممالک سے ہے اور یہ افراد ترکی ہی کے راستے یورپی یونین کی ریاستوں میں داخل ہوتے ہیں۔ رواں برس اس بہاؤ میں کچھ کمی ضرور ہوئی ہے، تاہم اب بھی مہاجرین کی یورپ آمد کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

ہنگری کے وزیراعظم اوربان مہاجرین کی یورپ آمد اور جرمنی کی جانب سے مہاجرین قبول کرنے کے اقدام کے سخت ناقد ہیں۔ بدھ کے روز انہوں نے یورپی یونین کے اس منصوبے، جس کے تحت مہاجرین کو یونین کی رکن ریاستوں میں تقسیم کیا جانا ہے، پر عوامی ریفرنڈم کا اعلان کیا تھا۔ ’’برسلز ترکوں کے ساتھ ایسے وعدے کر رہا ہے، جو ہم پورے نہیں کر سکتے یا جو ہم پورے نہیں کرنا چاہتے۔ ترکی سے آنے والے لاکھوں مہاجرین کو قبول کرنا اور پھر انہیں یونین کی رکن ریاستوں میں تقسیم کرنا، یورپ کے لیے ایک سراب ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے برسلز کا یہ منصوبہ قبول کر لیا، تو ہنگری کے عوام انہیں دارالحکومت بوداپیسٹ میں کسی کھمبے سے باندھ دیں گے۔