1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی کے خلاف بڑھتے ہوئے اسرائیلی اعتراضات

اسرائیلی وزیر خارجہ لیبرمان نے ترکی کو اُس دور کے ایران سے مماثل قرار دیا ہے، جب وہاں 1979ء میں اسلامی انقلاب آیا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ ترکی کے تعلقات خراب ہونے کی ذمہ دار انقرہ حکومت کی پالیسیاں ہیں۔

default

اسرائیلی وزیر خارجہ اویگڈور لیبرمان

جمعرات چھ جنوری کو جریدے ’یروشلم پوسٹ‘ کے لئے ’ہم ترکی کا پنچنگ بیگ نہیں بنیں گے‘ کے عنوان کے تحت اپنے ایک مضمون میں اویگڈور لیبرمان نے ترک اسرائیلی اتحاد کو بحال کرنے کے موضوع پر بات چیت کے لیے اپنے ترک ہم منصب کو مل بیٹھنے اور ’کھلی اور ایماندارانہ مکالمت‘ کی پیشکش کی ہے۔

مئی میں ترکی کے تعاون سے غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کے لیے آنے والے بحری جہازوں کے قافلے کو اسرائیل نے ایک خونریز کارروائی کرتے ہوئے روک دیا تھا، جس کے بعد سے دونوں ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے۔ اِس بیان بازی میں مزید شدت پیدا کرتے ہوئے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لیبرمان نے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات خراب ہونے کی تمام تر ذمہ داری انقرہ حکومت پر ڈال دی ہے۔ لیبرمان کے مطابق ’تعلقات میں مکمل طور پر یکطرفہ تبدیلی ہمارے اقدامات کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ ترکی کی داخلی پالیسیوں کا نتیجہ ہے‘۔

Türkei Demonstration gegen israelische Militäraktion in Gaza Flash-Galerie

ترکی میں مظاہرین غزہ امدادی قافلے کے خلاف خونریز اسرائیلی کارروائی پر احتجاج کر رہے ہیں

لیبرمان لکھتے ہیں: ’’بدقسمتی سے ترکی میں پیش آنے والے حالیہ واقعات آیت اللہ خمینی کی قیادت میں آنے والے اسلامی انقلاب سے پہلے کے ایران کی یاد دلاتے ہیں۔ ترکی ہی کی طرح ایران بھی اسرائیل کے انتہائی قریبی حلیفوں میں سے ایک تھا اور دونوں ملکوں کی حکومتوں اور عوام کے درمیان اچھے تعلقات قائم تھے۔‘‘

آج اسلامی جمہوریہء ایران اور اسرائیل ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور اسرائیل ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کی ایران کے ساتھ زیادہ قریبی تعلقات کی کوششوں کو ناپسندیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ ترکی نے نہ صرف تہران کے خلاف امریکی سرکردگی میں لگائی جانے والی پابندیوں پر ناراضگی ظاہر کی ہے بلکہ اُس نے نیٹو کے اُس علاقائی میزائل شکن نظام پر بھی اعتراض کیا ہے، جس سے ممکنہ طور پر اسرائیل کو مدد مل سکتی ہے۔

Israel Palästina Palästinenser Gaza Angriff Türkei Erdogan

ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے غزہ کے لئے امدادی قافلے پر اسرائیلی بحریہ کے حملے کو ریاستی دہشت گردی قرار دیا تھا

31 مئی کو غزہ امدادی قافلے پر حملے کے دوران اسرائیلی بحریہ کے فوجیوں کے ہاتھیوں نو ترک رضاکاروں کی ہلاکت کے بعد سے ترکی میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور لوگ اسرائیل کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگے تھے۔ لیبرمان نے اِس بات پر بھی افسوس ظاہر کیا ہے کہ ایردوآن حکومت ترکی میں اسرائیل کے خلاف اِس ’نفرت اور اشتعال‘ پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔

اِن دونوں سابقہ حلیف ممالک کے درمیان گزشتہ مہینے تعلقات کو معمول پر لانے کے موضوع پر مختصر مذاکرات عمل میں آئے تھے۔ ترکی کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل اپنی خونریز فوجی کارروائی پر معافی مانگے اور زرِ تلافی ادا کرے جبکہ لیبرمان اِن مطالبات کو ناقابلِ قبول اور حد سے متجاوز قرار دیتے ہیں۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس