1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ترکی کے بعد ليبيا والے روٹ کی بندش کے ليے معاہدہ زير غور

ليبيا کے نائب صدر نے اميد کا اظہار کيا ہے کہ مہاجرين کی يورپ کی جانب ہجرت کو روکنے کے ليے اُن کے ملک اور يورپی يونين کے مابين اُسی طرز کا معاہدہ طے ہو سکے گا جيسا کہ ترکی اور يورپی بلاک کے درميان ہے۔

ليبيا کے نائب صدر احمد معيتيق نے اس اميد کا اظہار اطالوی دارالحکومت روم کے دورے پر تيئس اپريل کے روز ميزبان ملک کے وزير داخلہ انجيلينو الفانو سے ملاقات کے دوران کيا۔ بعد ازاں الفانو نے اِس بارے ميں جاری کردہ بيان ميں کہا، ’’ليبيا کے نائب صدر نے کہا ہے کہ ايک کے بدلے ايک نظام والے يورپی يونين اور ترکی کے مابين طے پانے والے معاہدے ہی کی طرز پر ليبيا اور يورپی بلاک کے درميان بھی معاہدے کو آگے بڑھايا جائے۔‘‘ اطالوی وزير داخلہ نے البتہ مزيد کوئی تفصيلات نہيں بتائيں۔

رواں سال اٹھارہ مارچ کے روز انقرہ حکومت اور برسلز کے مابين طے پانے والے ايک متنازعہ معاہدے کے تحت مختلف مراعات کے بدلے ترکی يونانی جزائر پر پہنچنے والے تمام نئے تارکين وطن کو واپس لينے کو تيار ہو گيا ہے اور اس وقت اس معاہدے پر عملدرآمد جاری ہے۔ اس معاہدے کا مقصد تارکين وطن کی يورپ کی جانب غير قانونی ہجرت کو روکنا اور يورپی يونين پر دباؤ کم کرنا ہے۔ گزشتہ برس شام، عراق، افغانستان، پاکستان، ايران اور چند شمالی افريقی ممالک سے ايک ملين سے زائد مہاجرين نے سياسی پناہ کے ليے يورپی براعظم کا رخ کيا۔

اپنے دورہ اٹلی کے موقع پر ليبيا کے نائب صدر احمد معيتيق نے ليبيا کے عوام کی مدد کرنے پر روم حکومت کا شکريہ ادا کيا اور اس اميد کا اظہار بھی کيا کہ اٹلی ليبيا ميں متحد جمہوری حکومت کے قيام کے سلسلے ميں قومی مفاہمت کی پاليسی کے ليے کردار ادا کرتا رہے گا۔ ميزبان ملک کے وزير داخلہ انجيلينو الفانو کے بقول مہاجرين کے معاملے کے علاوہ دونوں ملکوں نے انسداد دہشت گردی اور انسانوی کی اسمگلنگ کے خاتمے کے ليے تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کيا۔

ليبيا سے مہاجرين بحيرہ روم پار کرتے ہوئے يورپ پہنچتے رہے ہيں

ليبيا سے مہاجرين بحيرہ روم پار کرتے ہوئے يورپ پہنچتے رہے ہيں

ليبيا ميں سن 2014 کے وسط ميں مليشيا اتحاد کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اس شمالی افریقی ملک میں دو متوازی حکومتیں فعال ہيں۔ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی حمايت يافتہ متحدہ حکومت کے اہلکار طرابلس پہنچے تھے۔ بين الاقوامی برادری تيل کے وسائل سے مالا مال اس ملک ميں امن و امان کے قيام کے ليے متحدہ حکومت کو اہم قرار ديتی ہے۔ يہ ملک سن 2011 ميں سابق آمر معمر قذافی کو اقتدار سے ہٹائے جانے اور ہلاکت کے بعد سے انتشار کا شکار ہے۔ کئی افريقی ملکوں سے تارکين وطن يورپ پہنچنے کے ليے ليبيا کی سرزمين استعمال کرتے ہيں۔