1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی کی ثالثی میں اسرائیل اور شام کے درمیان مذاکراتی عمل شروع

گزشتہ روز اسرائیل اور شام کے حکّام نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ دونوں حریف ملکوں کے درمیان آٹھ سالوں کے بعد بلا واسطہ مزاکرات کا عمل ترکی کی ثالثی میں شروع ہو چکا ہے۔

default

اسرایل مشروط طور پر گولان کی پہاڑیوں سے دست بردار ہونے کو تیار ہے

اسرائیل اور شام کے درمیان ممکنہ امن سمجھوتے کے حوالے سے اسرائیل کا شام سے مطالبہ ہے کہ وہ ایران سے فاصلہ اختیار کرے اور فلسطینی اور لبنانی عسکریت پسندوں کی پشت پناہی سے دست بردار ہو جائے۔


اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود آلمرٹ کا کہنا ہے کہ شام جانتا ہے کہ اسرائیل کے کیا مطالبات ہیں اور اسرائیل بھی اس بات سے واقف ہے کہ شام کے کیا خدشات ہیں۔


شام کیا چاہتا ہے؟ شام کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل کے قبضے میں گولان ہائٹس کا علاقہ اس کو واپس کر دیا جائے۔واضح طور پر تو نہیں مگر مبہم الفاظ میں اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود آلمرٹ نے چند ہفتوں قبل گولان ہائٹس سے دستبردار ہونے کی بات کی تھی۔

Syriens Präsident Baschar al-Assad

شام کے صدر بشر الاسد


مگر اسرائیلی پارلمنٹ کے رکن اور لکوڈ پارٹی سے تعلق رکھنے والے Limor Livnatکا کہنا ہے کہ ایہود آلمرٹ کو گھر جانا چاہیے اور ان کو اس بات کا کوئی حق نہیں کہ وہ شام کو رعایات دیں اس واسطے کہ وہ خود ایک متنازعہ شخصیت ہیں۔


اسرائیل کے کیا مطالبات ہیں؟ اسرائیل چاہتا ہے کہ وہ اپنی شمالی سرحدوں پر تنازعات کا شکار نہ ہو اور اپنی توجّہ مسئلہِ فلسطین پر مرکوز رکھے ۔ اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ شام کو ایران کے اثر سے آزاد کرایا جائے تاکہ موثر طور پر لبنان میں حذب اللہ اور غزّہ میںحمّاس سے نمٹا جا سکے۔


دوسری جانب شام کا مزاکرات کی میز پر آنے کی ایک وجہ اس کے مبیّنہ جوہری پروگرام پر امریکہ اور بین الاقوامی دبائو بھی ہے۔ صرف آٹھ ماہ قبل ہی اسرائیلی فضائیہ نے شام کی سرحد کے اندر مبینہ شامی جوہری پلانٹس پر میزائل داغے تھے۔


خود ایہود آلمرٹ کے نذدیک شام کے ساتھ اسرائیلی تعلقات میں بہتری آسان عمل نہیں ہے اور اس میں بہت سی رکاوٹیں ہیں۔ شام کا موقف ہے کہ مزاکرات سے قبل اسرائیل کو پیشگی شرائط عائد نہیں کرنی چاہییں۔


امریکہ نے سرکاری طور پر اسرائیل اور شام کے درمیان مزاکرات پر اعتراض نہیں کیا ہے بلکہ مبصرین کی رائے میں ایران سے متعلق بالخصوص اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے بالعموم یہ امریکی خارجہ پالیسی کا حصّہ ہے۔