1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی کی اسرائیل کے خلاف مزید پابندیاں

ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے اسرائیل کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل اسرائیل کے ساتھ تمام تر فوجی تعلقات منجمد کرنے کے ساتھ ساتھ ملک سے اسرائیلی سفیر کی بے دخلی کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔

default

گزشتہ برس مئی میں غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے بحری قافلے پر اسرائیلی کمانڈوز نے حملہ کر کے 9 ترک شہریوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اسرائیل نے غزہ کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ اسرائیل کا الزام ہے کہ بحری راستے کے ذریعے عسکریت پسند تنظیم حماس تک اسلحے کی ترسیل ہو سکتی ہے، جو اسرائیلی شہریوں پر حملوں میں استعمال ہو سکتا ہے۔

غزہ فلوٹیلا نامی بحرے قافلے پر اسرائیلی حملے کے واقعے کے بعد ترکی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سرکاری طور پر معافی مانگے اور ہلاک شدگان کے اہل خانہ کو زر تلافی ادا کرے۔ اسرائیل نے اس واقعے پر دکھ کا اظہار کیا تھا اور اہل خانہ کو زر تلافی ادا کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم معافی مانگنے سے انکار کر دیا تھا۔

چند روز قبل اس واقعے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل نے اس سلسلے میں ‘غیر ضروری حد تک زیادہ طاقت‘ کا استعمال کیا۔ تاہم اقوام متحدہ کی اس تفتیشی رپورٹ میں غزہ کی ناکہ بندی کو جائز قرار دیا گیا تھا۔ اس رپورٹ کو ترکی نے مسترد کر دیا تھا اور رد عمل کے طور پر اسرائیلی سفیرکی ملک بدری کا اعلان کیا گیا تھا۔

Benjamin Netanyahu vor dem Untersuchungssausschus

اسرائیل نے اس واقعے پر معذرت سے انکار کر دیا تھا

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے اب اپنے ایک بیان میں ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ جب تک اسرائیل اس واقعے پر معافی نہیں مانگتا اور جب تک متاثرہ خاندانوں کو زر تلافی ادا نہیں کرتا، اس کے ساتھ تعلقات بحال نہیں ہو سکتے۔ ایردوآن نے اسرائیل کو ایک بگڑا ہوا بچہ قرار دیا۔ ‘‘اقوام متحدہ کی اب تک کی قراردوں کے حوالے سے اسرائیل کا رویہ ایک بگڑے ہوئے بچے کی طرح رہا ہے اور اسرائیل اب بھی یہی کچھ کر رہا ہے۔‘‘

دریں اثناء ترک وزیراعظم ایردوآن نے بحیرہء روم میں ترک نیوی کی نقل و حرکت میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ غزہ کی جانب جانے والے کسی امدادی قافلے کی سلامتی کو یقینی بننانے کی ضرورت پڑی، تو ترک نیوی حرکت میں آئے گی۔

ایسی کسی ممکنہ کارروائی کے سنگین نتائج کا اندازہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے اس بیان سے لگایا جا سکتا ہے، جس میں انہوں نے دونوں ممالک سے تحمل اور تعلقات میں بہتری کے لیے کوششوں کی اپیل کی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں پیدا شدہ اس کشیدگی کا واضح اثر سیاحت کی صنعت پر بھی پڑا ہے۔ رواں برس کے پہلے چھ ماہ میں ترکی کا رخ کرنے والے اسرائیلی سیاحوں کی تعداد میں 60 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ چند روز قبل ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جن میں کہا جا رہا تھا کہ استنبول پہنچنے والے اسرائیلی شہریوں کو ایئرپورٹ پر کافی دیر روکے رکھا گیا اور ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔ تاہم استنبول کے ڈپٹی گورنر ایدِین احمد کے مطابق ترک حکام کا اسرائیلی شہریوں سے سلوک، اُس سے بالکل مختلف نہیں، جیسا ترک شہریوں کو اسرائیل میں سہنا پڑ رہا ہے۔

رپورٹ:  عاطف توقیر

ادارت:  امجد علی

DW.COM