1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ترکی کو ’بلیک میل‘ نہیں کرنے دیں گے

یورپی سربراہان کی کوشش ہے کہ یورپی یونین اور ترکی کے مابین پناہ گزینوں کے مسئلے پر معاہدے کو حتمی شکل دینے سے قبل رکن ممالک میں مکمل اتفاق رائے پیدا کر لیا جائے۔ یونین اور ترکی کے درمیان اجلاس کل شروع ہو رہا ہے۔

یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک کے مطابق یونین اور ترکی کے مابین مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے معاہدہ طے پا گیا تو یہ ’کھیل بدل دے گا‘۔ مجوزہ معاہدے کے مطابق ترکی سے یونان آنے والے تارکین وطن کو واپس ترکی بھیج دیا جائے گا۔ سمندری راستوں کے ذریعے یونان پہنچنے والے شامی مہاجرین کو بھی ترکی بھیج دیا جائے گا لیکن ان کے بدلے ترک کیمپوں میں مقیم شامی شہریوں کو یورپ میں پناہ دی جائے گی۔

تارکین وطن کو بڑے پیمانے پر واپس ترکی بھیجنے کی کوشش

یورپ میں پناہ کے متلاشیوں میں اڑتالیس ہزار پاکستانی بھی

تاہم ڈیل کو حتمی شکل دیے جانے سے قبل ہی مختلف یورپی ممالک کی جانب سے مخالفت دیکھی جا رہی ہے۔ فرانس اور چیک جمہوریہ نے خبردار کیا ہے کہ ترکی مہاجرین کے بحران کی آڑ میں یورپ کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ بھی اس مجوزہ معاہدے کو مہاجرین اور انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی قوانین سے متصادم قرار دے چکی ہے۔

فرانس کا کہنا ہے کہ ان کا ملک انقرہ حکومت کو اجازت نہیں دے گا کہ وہ معاہدے کے لیے شرائط طے کرے۔ فرانسیسی وزیر اعظم مانوئل والس کا کہنا تھا کہ ترکی یورپ میں جاری پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے موثر تعاون کرے اور یورپی یونین کو بلیک میل کرنے سے خبردار رہے۔

چیک جمہوریہ کے صدر میلوس زیمان کی رائے بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ زیمان کا کہنا تھا کہ ترکی یورپی یونین سے کئی بلین یورو مزید مانگ رہا ہے جسے ’میرے جیسا لحاظ نہ کرنے والا شخص بلیک میل کرنے کی کوشش‘ کہے گا۔

قبرص اور ترکی کے درمیان ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے مسئلے پر دیرینہ اختلاف پایا جاتا ہے جو ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے ضمن میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اب قبرص نے مجوزہ معاہدے کی مخالفت کا اعلان بھی کر دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹسک کی کوشش ہے کہ ترکی کے ساتھ معاہدے طے کیے جانے سے قبل قبرص کی حمایت حاصل کر لی جائے۔ اس سلسلے میں سمٹ کے آغاز سے قبل قبرص کے صدر اور یورپی کمیشن کے سربراہ کے مابین ملاقات ہو رہی ہے۔

ڈونلڈ ٹسک معاہدے کی جزیات طے کرنے کے لیے سمٹ سے پہلے ہی انقرہ کے دورے پر روانہ ہو چکے ہیں۔ ٹسک کا کہنا تھا کہ معاہدے کو ایسی شکل دینا کہ وہ یونین کے تمام اٹھائیس رکن ممالک کے لیے قابل قبول ہو اور قانونی طور پر بھی اس میں کوئی سقم نہ ہو، ایک پیچیدہ کام ہے۔

جرمنی کی وفاقی چانسلر انگیلا میرکل، جنہوں نے ترکی اور یورپی یونین کے درمیان معاہدہ طے کرنے کے لیے بنیادی کردار ادا کیا ہے، بھی اس ڈیل کے مندرجات جرمن پارلیمان کے سامنے پیش کرنے والی ہیں۔

DW.COM