1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی کو اپنے دفاع کا حق ہے، مگر متناسب انداز میں، اسٹولٹن برگ

نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ نے ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردانہ حملوں کا جواب دینے میں متناسب رویہ اختیار کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی نیٹو کا مشرقی وسطیٰ بحران سے سب سے زیادہ متاثرہ رکن ملک ہے۔

ناروے میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل کا ترکی میں ہونے والے حالیہ دوہرے بم دھماکوں کے بارے میں کہنا تھا، ’’ وہ (ترکی) بہت سے دہشت گردانہ حملوں کو نشانہ بن چکا ہے۔ اسے اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، مگر میں یقینی طور پر توقع کرتا ہوں کہ ترکی رد عمل میں متناسب رویہ اختیار کرے گا۔‘‘ خیال رہے کہ حالیہ بم دھماکوں کے نتیجے میں 97 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

دوسری طرف کردستان ورکرز پارٹی (PKK) کے ایک سینیئر کمانڈر نے کہا ہے کہ ان کا گروپ اختتام ہفتہ پر اعلان کردہ جنگ بندی کے اعلان پر کاربند رہے گا۔ اس جنگ بندی کا اعلان انقرہ میں اختتام ہفتہ پر ہونے والے دوہرے بم دھماکے کے بعد کیا گیا تھا۔ ہفتہ 10 اکتوبر کو ترک دارالحکومت انقرہ کے مرکزی ریلوے اسٹیشن کے قریب کرد نوازوں کی ایک ریلی کے دوران ہونے والے دو خودکش حملوں کے نتیجے میں کم از کم 97 لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔

کردستان ورکرز پارٹی کی طرف سے جنگ بندی کا اعلان ایک ایسے وقت پر کیا گیا جب ترکی نے اختتام ہفتہ پر ترکی کے جنوب مشرقی حصے اور عراق کے شمالی علاقوں میں اس تنظیم کے جنگجوؤں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا۔ ترکی کے مشرقی حصے میں بھی کرد جنگجوؤں کے ساتھ ایک جھڑپ میں دو ترک فوجی ہلاک ہو گئے، جس کے بعد اس جنگ بندی پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا۔

کرد نوازوں کی ایک ریلی کے دوران ہونے والے دو خودکش حملوں کے نتیجے میں کم از کم 97 لوگ ہلاک ہو گئے تھے

کرد نوازوں کی ایک ریلی کے دوران ہونے والے دو خودکش حملوں کے نتیجے میں کم از کم 97 لوگ ہلاک ہو گئے تھے

PKK کی طرف سے جنگ بندی کا اعلان ہفتہ 10 اکتوبر کو سامنے آیا۔ یہ اعلان ان اپیلوں کے بعد کیا گیا جن میں یکم نومبر کے انتخابات سے قبل تناؤ میں کمی لانے کا کہا گیا تھا۔ اس اعلان میں کرد جنگجوؤں سے کہا گیا تھا کہ وہ محض اسی صورت میں جواب دیں جب ان پر کوئی حملہ ہو۔ کردستان ورکرز پارٹی اور ترک حکومت کے دوران دو سالہ جنگ بندی تین ماہ قبل ہی ترکی میں ایک دہشت گردانہ حملے کے بعد ختم ہو گئی تھی۔

ترکی، امریکا اور یورپی یونین PKK کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔ اس گروپ نے 1984ء میں علیحدگی کے لیے مسلح تحریک شروع کی تھی، جس کے نتیجے میں اب تک 40 ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ ترک حکومت نے اس تنظیم کے جیل میں قید سربراہ سے مذاکرات کا آغاز 2012ء میں کیا تھا جس کے بعد اطراف کی طرف سے مارچ 2013ء میں جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔