1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی کو اپنی تاریخ کی سب سے بڑی دہشت گردی کا سامنا، ایردوآن

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے عسکریت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ اور کرد باغیوں کو کچل دینے کا عہد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترک ریاست کو اس وقت اپنی تاریخ کی سب سے بڑی سلسلے وار دہشت گردانہ کارروائیوں میں سے ایک کا سامنا ہے۔

پیر اکیس مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق صدر ایردوآن نے آج استنبول میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کو اپنی ریاستی تاریخ میں آج تک بڑی دہشت گردانہ کارروائیوں کی جتنی بھی لہروں کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس وقت اسے ایسی ہی ایک بہت بڑی لہر کا سامنا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق رجب طیب ایردوآن نے کہا، ’’ترکی میں حالیہ مہینوں میں جتنے بھی دہشت گردانہ حملے کیے گئے ہیں، ان کے پیچھے سرگرم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش نامی عسکریت پسند تنظیم اور کرد باغیوں سب کو پوری طرح کچل دیا جائے گا۔ ترک صدر کے اس موقف کا پس منظر یہ ہے کہ ترکی میں گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران کم از کم چھ ایسے بڑے خونریز دہشت گردانہ بم حملے کیے جا چکے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

استنبول میں اپنے خطاب کے دوران رجب طیب ایردوآن نے اس بارے میں بھی سوال اٹھایا کہ آیا یورپی یونین کرد باغیوں کے خلاف اپنی جنگ میں واقعی مخلص ہے؟ ترکی نے اپنے ہاں کرد باغیوں کی ممنوعہ جماعت کردستان ورکرز پارٹی یا PKK کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اسی طرح یورپی ملکوں نے بھی پی کے کے کو ممنوع قرار دے رکھا ہے۔

اس بارے میں صدر ایردوآن نے اپنے خطاب میں سوال اٹھایا کہ کیا یورپی یونین اس بارے میں مخلص ہے کہ وہ ممنوعہ کردستان ورکرز پارٹی کے باغیوں کے خلاف جنگ میں ترکی کی حمایت کرے؟ ترک صدر نے کرد باغیوں کی اس تنظیم کے خلاف ترکی کی ریاستی جنگ میں یورپ پر ’منافقت‌‘ کا الزام لگاتے ہوئے یاد دلایا کہ اس تنظیم کو ترکی ہی نہیں بلکہ اس کے مغربی اتحادی بھی ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے کر بلیک لسٹ کر چکے ہیں۔

گزشتہ جمعے کے روز برسلز میں جب یورپی یونین اور ترکی کی سربراہی کانفرنس ہوئی تھی، جس میں مہاجرین کے بحران پر بات چیت کی گئی تھی، تو برسلز میں یورپی کونسل کی عمارت کے باہر کرد کارکنوں نے اپنا ایک احتجاجی خیمہ بھی لگا رکھا تھا۔

اس بات کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ایردوآن نے کہا، ’’اگر کسی دہشت گرد تنظیم کو برسلز میں یورپی کونسل کی عمارت کے باہر خیمہ لگانے کی اجازت دے دی جاتی ہے، تو پھر آپ کسی خلوص کی بات کیسے کر سکتے ہیں؟‘‘

ترکی کو حالیہ مہینوں کے دوران اپنی سرزمین پر جن بڑے اور بہت ہلاکت خیز دہشت گردانہ حملوں کا سامنا رہا ہے، انقرہ حکومت اِسے بھی اُسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیتی ہے کہ آج جس وقت استنبول میں صدر ایردوآن ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے، عین اسی وقت شام کے ساتھ ترک سرحد کے قریب ملکی سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی پر کیے گئے ایک بم حملے میں تین ترک فوجی مارے گئے۔

یہ وہی ترک علاقہ ہے، جہاں پی کے کے کے ساتھ ترکی کے جنگ بندی معاہدے کے ڈھائی سال بعد گزشتہ جولائی میں اس فائر بندی کے ناکام ہو جانے کے بعد سے کرد باغیوں اور ترک سکیورٹی دستوں کے درمیان اب تک کی سب سے زیادہ جھڑپیں دیکھنے میں آئی ہیں۔

اسی دوران ترک پولیس کی طرف سے آج پیر کے روز بتایا گیا کہ گزشتہ ہفتے استنبول میں داعش کے ایک مشتبہ عسکریت پسند کی طرف سے کیے گئے ایک خود کش بم دھماکے کے بعد، جس میں چار غیر ملکی مارے گئے تھے، حکام ابھی تک اس حملہ آور کے تین دیگر ساتھیوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ترک تفتیش کاروں کو خدشہ ہے کہ ان تینوں مشتبہ عسکریت پسندوں نے بھی ترکی میں مزید حملے کرنے کے منصوبے بنا رکھے ہیں۔