1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی: کرد عسکریت پسندوں کے حملوں میں آٹھ ہلاکتیں

ترکی میں کرد علیحدگی پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ ہلاکتیں سِنرک صوبے میں ایک چیک پوسٹ پر بم حملے میں ہوئیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ترک فورسز نے جنوب مشرقی ترکی کے سب سے بڑے شہر دیارباقر میں ان جھڑپوں کے بعد کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سِنرک صوبے میں کردستان ورکرز پارٹی سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں نے ایک پولیس چیک پوسٹ کو کار بم حملے سے نشانہ بنایا۔ اس واقعے میں دیگر پانچ پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ دیارباقر کے متعدد دیگر علاقوں میں بھی عسکریت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں پانچ عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔

یہ بات اہم ہے کہ رواں برس جولائی میں کردستان ورکرز پارٹی اور ترک حکومت کے درمیان امن معاہدہ ختم ہو جانے کے بعد شروع ہونے والی تشدد کی لہر میں اب تک ایک سو سے زائد پولیس اہلکار اور فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ اس کے جواب میں سینکڑوں علیحدگی پسند بھی مارے جا چکے ہیں۔ سن 2012ء میں ترک حکومت اور علیحدگی پسندوں کے درمیان امن معاہدہ طے پایا تھا، جس کے بعد قریب دودہائیوں سے جاری تشدد کا خاتمہ ممکن ہوا تھا۔

سنرک صوبے کے گورنر کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ جھڑپوں کے بعد سُر ضلعے میں بھی کرفیو نافذ کر دیا ہے، جہاں عسکریت پسندوں کے حملوں میں سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

اتوار کے روز کردستان ورکرز پارٹی کے جنگجوؤں نے راکٹوں اور آتشیں اسلحے کی مدد سے دیارباقر کے سِلوان ضلعے میں پولیس کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں ایک پولیس اہلکار ہلاک جب کہ ایک اور زخمی ہوا۔ اس ضلعے میں بھی کرفیو کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کردستان ورکرز پارٹی کے عسکریت پسند ان حملوں کے بعد قریبی پہاڑوں کی جانب فرار ہو گئے ہیں، جب کہ ان پہاڑوں کو فوج بھاری توپ خانے کے ذریعے نشانہ بنا رہی ہے۔ اس کے علاوہ علیحدگی پسندوں کے خلاف ان عسکری کارروائیوں میں کوبرا ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان کارروائیوں میں پانچ جنگجو مارے گئے ہیں۔