1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ترکی کا نیٹو مشن سے دستبردار ہونے کا امکان

ایسے اشارے سامنے آئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بحیرہ ایجیئن میں مہاجرین کو روکنے کے نیٹو مشن سے ترکی دستبردار ہو سکتا ہے۔ مہاجرین کے حوالے سے یورپی یونین کے ترکی اور یونان کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پایا جاتا ہے۔

یونان اور ترکی کی حکومتوں کے درمیان مہاجرین اور قبرصی بات چیت کے تناظر میں جو تناؤ پیدا ہے، اُس کا اثر بحیرہ ایجیئن میں نیٹو مشن پر پڑنے کا امکان ہے۔ اس باعث ترکی نیٹو کی بحری دستے کی کمان سے دستبردار بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اگر نیٹو نیول مشن کی کمان ترکی کو سونپ دی گئی تو ایتھنز حکومت کا سخت ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ کمان کی تبدیلی اگلے برس ہو گی۔

اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے  برطانیہ کے وائس چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل گورڈن میسینجر کا کہنا ہے کہ ترکی اور یونان میں پائے جانے والی سفارتی و دوطرفہ تعلقات کی نزاکت کے تناظر میں امکان ہے کہ ترکی کے سینیئر کمانڈر کو نگرانی کے مشن کی کمان سونپنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ برطانوی جنرل کے مطابق اگر ایسا ہوتا ہے تو ترکی کے سینیئر کمانڈر کے نائب کو کسی ایک چھوٹے نگرانی کے منصوبے کی ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے۔

Ägäis Ursula von der Leyen besucht Bundeswehrsoldaten in der Ägäis (picture-alliance/dpa/J. Macdougall)

بحیرہ ایجیئن میں نیٹو کے نگرانی مشن میں شامل جرمن فوجیوں کے ساتھ جرمن وزیر دفاع

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق ایجیئن سمندر کے حساس علاقے میں ترکی کے کمانڈر کی موجودگی یونان کے لیے پریشانی کا سبب ہو سکتی ہے۔ سفارتی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اِس سمندر میں نیٹو کے بحری جہازوں کی نگرانی کے عمل سے انقرہ حکومت بظاہر عدم مسرت کی شکار ہے کیونکہ اس سمندری حدود پر یونان برسوں سے اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا چلا آ رہا ہے۔ بحیرہ ایجیئن کے کئی جزائر متنازعہ ہیں اور یونان کا تصرف ان پر زیادہ ہے۔

نیٹو کا نگرانی کا موجودہ مشن اگلے برس فروری میں ختم ہو رہا ہے اور امکان ہے کہ مہاجرین کا ایک نیا سیلاب اس سمندر سے گزر کر یونان کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ یورپی یونین کو اس صورت حال کا اندازہ ہے اور تشویش بھی ہے۔ ترکی اور یورپی یونین کے درمیان رواں برس مارچ میں مہاجرین کی ڈیل طے پائی تھی اور اِس کی مد میں اربوں یورو ترکی کی دیے جائیں گے تا کہ وہ مہاجرین کو ہر صورت میں اپنے ملک کی حدود میں روک کر رکھے۔

اس وقت بحیرہ ایجیئن میں نگرانی کرنے والے بحری دستے کی کمان جرمنی کے پاس ہے۔ ایسے اندازے لگائے گئے ہیں کہ جرمن کمان میں تسلسل پیدا کیا جا سکتا ہے۔