1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی: کار بم دھماکا، دس فوجیوں سمیت 18 ہلاک

ترکی کے جنوب مشرقی صوبہ ہاکاری میں ہونے والے ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں 18 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں دس فوجی بھی شامل ہیں۔

ترک نیوز ایجنسی ڈوگان نے بتابا ہے کہ جنوب مشرقی صوبے ہاکاری میں ہونے والے کار بم حملے میں 10 فوجیوں سمیت اٹھارہ  افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ گیارہ فوجیوں سمیت ستائیس زخمی ہیں۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق بارود سے لدی کار کو ضلع سمدنلی میں ترک فوجیوں کی ایک چیک پوائنٹ کے سامنے دھماکے سے اڑا دیا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس کار بم دھماکے کے نتیجے میں 11 دیگر فوجی زخمی بھی ہوئے۔ ترک صوبہ ہاکاری عراق اور ایران کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ جس وقت یہ دھماکا کیا گیا ترک فوجی اس وقت وہاں سے گزرنے والی گاڑیوں کی تلاشی لے رہے تھے۔

اے ایف پی کے مطابق یہ کار بم دھماکا اس قدر شدید تھا کہ دھماکے کی جگہ پر 10 سے 15 میٹر چوڑا اور سات میٹر گہرا گڑھا بن گیا۔ اس دھماکے کے فوری بعد ترک فوج کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ وہ بڑے پیمانے پر فضائی آپریشن کا آغاز کر رہی ہے۔

ترک ٹیلی وژن سی این این تُرک نے ملکی فوج کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ ہاکاری میں PKK کے 387 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

Türkei Explosionen und Schüsse am Flughafen in Istanbul (Reuters/O. Orsal)

کار بم دھماکے کے نتیجے میں گیارہ فوجیوں سمیت ستائیس افراد زخمی ہیں

ابھی تک کسی نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی مگر ترک فوج کی طرف سے کالعدم تنظیم کُردستان ورکرز پارٹی کی طرف انگلی اٹھائی گئی ہے۔ ترک فوج نے کرد عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ گزشتہ موسم سرما میں اس آپریشن کا آغاز اُس وقت کیا گیا، جب ترک حکومت اور کردستان ورکرز پارٹی کے درمیان دو برس تک قائم رہنے والے امن معاہدہ ٹوٹ گیا تھا۔

کُردستان ورکرز پارٹی (PKK) اور اس سے الگ ہونے والے ایک گروپ کُردستان فریڈم فالکن (TAK) نے اس وقت کے بعد سے ترک سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

ترک حکومت کی طرف سے اس تنظیم کے ساتھ امن مذاکرات کے کسی امکان کو رد کر دیا گیا ہے۔ ترکی کے نائب وزیراعظم نعمان کُرتُلمس کی طرف سے آج اتوار نو اکتوبر کو ایک ٹوئیٹر پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’’ترکی دہشت گرد تنظیموں کے سامنے کبھی نہیں جھکے گا۔‘‘ اپنے پیغام میں ان کا مزید کہنا تھا کہ اتوار کے روز ہونے والے ’مکروہ‘ حملے کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا