1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ترکی نے مہاجرین اسمگل کرنے والوں کو چھوٹ دے رکھی ہے، یونان

یونانی وزیر برائے مہاجرین یوانِس موزالاس کا کہنا ہے کہ اسمگلر دن کی روشنی میں مہاجرین کو ترکی سے یونان پہنچا رہے ہیں لیکن انقرہ حکومت نے اس بارے میں آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یوانس موزالاس نے یونانی دارالحکومت ایتھنز میں ایک پریس کانفرس میں کہا، ’’تارکین وطن کو ترکی سے یونان کی جانب منظم انداز میں بھیجا جا رہا ہے اور یہ سب سرعام کیا جا رہا ہے۔‘‘

موزالاس نے یونانی کوسٹ گارڈز کے بیانات اور ترک میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا، ’’انسانوں کے اسمگلر دن کی روشنی میں پناہ کے متلاشی افراد کو کشتیوں میں سوار کر کے یونانی جزیروں کی جانب بھیجتے ہیں۔ ترک ساحلوں کے قریبی گاؤں میں رہنے والے مقامی لوگ بھی ایسے مناظر دیکھنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ یعنی یہ سب کچھ خفیہ نہیں بلکہ سب کی نظروں کے سامنے کیا جا رہا ہے۔‘‘

یونانی وزیر اعظم الیکسِس سپراس آئندہ ہفتے ترکی کا دورہ کرنے والے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق سپراس اس دورے میں ترک حکام پر انسانوں کے اسمگلروں کے خلاف سخت اقدامات کرنے پر زور دیں گے۔

موزالاس کا کہنا تھا کہ ترکی نے تیس لاکھ مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے اور انقرہ تارکین وطن پر خطیر رقم بھی خرچ کر رہا ہے لیکن ہمیں یقین ہے کہ ترکی اپنے ساحلوں سے بھیجے جانے والے مہاجرین کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے تارکین وطن کو یہ خطرناک سمندری راستہ اختیار کرنے سے روکنا بھی چاہیے۔

ادھر اقوام متحدہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ یونانی جزیرے لیسبوس پر مہاجرین کی مسلسل اور بلا روک ٹوک آمد کے باعث وہاں صورتحال انتہائی مخدوش ہوتی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق لیسبوس میں صرف تین ہزار کے لگ بھگ پناہ گزینوں کو رکھنے کی گنجائش ہے لیکن وہاں سولہ ہزار سے زائد مہاجرین موجود ہیں۔ جبکہ ترکی سے روزانہ کی بنیادوں پر 3300 مہاجرین کشتیوں کے ذریعے سفر کرتے ہوئے لیسبوس پہنچ رہے ہیں۔

Griechenland Flüchtlingsnot auf Lesbos

زیادہ تر مہاجرین بحیرہ ایجیئن کا خطرناک سمندری راستہ اختیار کرتے ہوئے یونانی جزیرے لیسبوس پہنچتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت کی ترجمان ڈیانے گڈمین کا کہنا تھا کہ لیسبوس جزیرے پر موجود مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد کے باعث کافی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ گڈمین کے مطابق نومولود بچوں اور عورتوں سمیت بہت سے تارکین وطن کھلے آسمان کے نیچے سونے پر مجبور ہیں جب کہ پناہ گزینوں اور پولیس و مقامی افراد کے درمیان تناؤ میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ گڈمین نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ سرد ہوتے ہوئے موسم کے باعث صورت حال ہاتھوں سے نکل سکتی ہے۔

یونانی وزیر برائے مہاجرین یوانس موزالاس نے یورپی یونین کے رکن ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک معاہدے کے تحت یونان سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار مہاجرین کو یونین کے مختلف ممالک میں بھیجا جانا تھا۔ تاہم اب تک صرف دو ہزار افراد کو ہی منتقل کیا جا سکا ہے۔

موزالاس اس صورت حال کی ذمہ داری رکن ممالک کے غیر لچکدار رویے پر عائد کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا، ’’ایک رکن ملک نے کہا کہ وہ بارہ مہاجرین کو پناہ دینے کے لیے تیار ہے۔ ہم چودہ تارکین وطن بھیجنا چاہ رہے تھے کیوں کہ وہ ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ لیکن اس ملک نے دو اضافی لوگوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔‘‘

DW.COM